خطابات نور — Page 197
نے کیاچھوڑا تھا اور پھر کیا پایا صحابہ نے کیا چھوڑا ہو گا اس کے بدلے میں کتنے گُنے زیادہ خدا نے ان کو دیا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک کیا ہے جو نہیں ہے۔(المنافقون :۸)تجارتوں میں خسارہ کا ہو جانا یقینی اور کاروبار میں تباہیوں کا واقع ہو جانا قر یْنِ قیاس ہے لیکن خدا تعالیٰ کے لئے کسی چیز کو چھوڑ کر کبھی بھی انسان خسارہ نہیں اٹھا سکتا۔۱۵؎ غرض اللہ تعالیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ ساری تجارتوں سے بہتر ہے وہ خیر الرازقین ہے۔میں نے بہت سے ایسے بیباک دیکھے ہیں جو کہا کرتے ہیں۔ای خیانت بر تو رحمت از تو گنجی یافتم ای دیانت بر تو لعنت از تو رنجی یافتم ایسے شوخ‘ دیدہ خود ‘ملعون ہیں جو دیانت پر لعنت بھیجتے ہیں۔پس خد ا کے لئے ان ذریعوں اور راستوں کو چھوڑو جو بظاہر کیسے ہی آرام دہ نظر آتے ہوں لیکن ان کے اندر خدا کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔میں نے بسا اوقات نصیحت کی ہے کہ (التوبۃ :۱۱۹) پر عمل کرنے کے واسطے ضروری ہے یہاں آکر رہو۔بعض نے جواب دیا ہے کہ تجارت یاملازمت کے کاموں سے فرصت نہیں ہوتی لیکن میں ان کو آج یہ سناتا ہوں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام تجارتوں کو چھوڑ کر ذکر اللہ کی طرف آجاؤ وہ اس بات کا کیا جواب دے سکتے ہیں کیا ہم کنبہ قبیلہ والے نہیں؟ کیا ہماری ضروریات اور ہمارے اخراجات نہیں ہیں؟ کیا ہم کودنیوی عزّت یا وجاہت بُری لگتی ہے؟ پھر وہ کیا چیز ہے جو ہم کو کھینچ کر یہاں لے آئی۔میں شیخی کے لئے نہیں کہتا بلکہ تحدیث بالنعمۃ کے طور پر کہتا ہوں کہ میں اگر شہر میں رہوں تو شاید بہت روپیہ کما سکوں لیکن میں کیوں ان ساری آمدنیوں پر قادیان کے رہنے کو ترجیح دیتا ہوں؟ اس کا مختصر جواب میں یہی دوں گا کہ میں نے یہاں وہ دولت پائی ہے جو غیر فانی ہے جس کو چور اور قزاق نہیں لے جاسکتا مجھے وہ ملا ہے جو تیرہ سو برس کے اندر آرزو کرنے والوں کو نہیں ملا۔پھر ایسی بے بہا دولت کو چھوڑ کر میں چند روزہ دنیا کے لئے مارا ماراپھروں۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اب کوئی مجھے ایک لاکھ کیا ایک کروڑ روپیہ یومیہ بھی دے اور قادیان سے باہر رکھنا چاہے میں نہیں رہ سکتا۔ہاں امام علیہ السلام کے حکم