خطابات نور — Page 196
جب ان سے فارغ ہو جاوے پھر اپنے کاروبار میں مصروف ہو۔ہاں یہ ضروری ہے کہ ان کاروبار میں مصروف ہو کر بھی یاد الٰہی کو نہ چھوڑے بلکہ دست بکار دل بہ یار ہو اور اس کا طریق یہ ہے کہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے اور دیکھ لے کہ آیا خلاف مرضی مولیٰ تو نہیں کر رہا۔جب یہ بات ہو تواس کا ہر فعل خواہ وہ تجارت کا ہو یا معاشرت کا ملازمت کاہو یا حکومت کا غرض کوئی بھی حالت ہوعبادت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔یہاں تک کہ کھانا پینا بھی اگر امرالٰہی کے نیچے ہو تو عبادت ہے۔یہ اصل ہے جو ساری فتح مندیوں کی کلید ہے مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اصل کو چھوڑ دیا۔جب تک اس پر عمل درآمد رہا تو اس وقت تک وہ ایک قوم فتح مند قوم کی حالت میں رہی لیکن جب اس پر سے عمل جاتا رہا تو نتیجہ یہ ہوا کہ یہ قوم ہر طرح پستیوں میں گر گئی۔ َ (الجمعۃ :۱۲) اور جب تجارت کے سامان مل جاتے ہیں یا کھیل تماشہ کا وقت پاتے ہیں وہ تجھے چھوڑکر چل دیتے ہیں ان کو کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ ساری تجارتوں اور کھیل تماشوں سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے۔یہ حالت انسان کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ خدا تعالیٰ پر سچا اور کامل یقین نہیں رکھتا اور اس کو رازق نہیں سمجھتا۔یوں ماننے سے کیا ہوتا ہے جب کامل ایمان ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔بعض لڑکوں سے میں نے پوچھا ہے کہ تم جو گھر جاتے ہو کیوں ؟کیا لھوکے واسطے۔اگر یہ غرض ہے تو پھر یہ خدا کے اس ارشاد کے نیچے ہے۔لَہْوًا اور تِجَارَۃً کوگویا خدا تعالیٰ پر مقدم کرتا ہے اس سے بچنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کو خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ یقین کرو۔اور مت خیال کرو کہ صادق کی صحبت میں رہنے سے کوئی نقصان ہوگا کبھی ایسی جرات کرنے کی کوشش نہ کرو کہ اپنی ذاتی اغراض کو مقدم کر لو۔خدا کے لئے جو کچھ انسان چھوڑتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر پالیتا ہے۔تم جانتے ہو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ