خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 198 of 660

خطابات نور — Page 198

کی تعمیل میں پھر خواہ مجھے ایک کوڑی بھی نہ ملے۔پس میری دولت میرا مال، میری ضرورتیں اسی امام کے اتباع تک ہیں اور دوسری ساری ضرورتوں کو اس ایک وجود پر قربان کرتا ہوں۔میرے دل میں بارہا یہ سوال پیداہوا ہے کہ صحابہ کو جو مہاجر تھے کیوں خلافت ملی اور مدینہ والے صحابہ کو جو انصار تھے اس سے حِصّہ نہیں ملا۔بظاہر یہ عجیب بات ہے کہ انصار کی جماعت نے ایسے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی جب آپ مکّہ سے تکالیف برداشت کرتے ہوئے پہنچے۔مگر اس میں بھید یہی ہے کہ انصار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑا نہیں ان کی نصرت کے لئے خدا نے ان کو بہت کچھ دیا مگر مہاجر جنہوں نے اللہ کے لئے ہاں محض اللہ ہی کے لئے اپنے گھر بار بیوی بچے اور رشتہ دار تک چھوڑ دئیے تھے اور اپنے منافع اور تجارتوں پر پانی پھیر دیا تھا وہ خلافت کی مسند پر بیٹھے۔میں ثقیفہ کی بحث پڑھتا تھا اور منکم امیر و منا امیر (صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ باب قول النبی صلعم لو کنت متخذا خلیلا حدیث نمبر۳۴۶۷)پر میں نے غور کی ہے مجھے خدا نے اس مسئلہ خلافت میں یہی سمجھایا ہے کہ مہاجرین نے چونکہ اپنے گھر بار تعلقات چھوڑے تھے ان کو ہی اس مسند پر اول جگہ ملنی ضرور تھی۔اللہ تعالیٰ کے لئے جب کوئی کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا۔پس ایسے عذر بے فائدہ اور بے ہودہ ہیں اس وقت دنیا خطرناک ابتلا میں پھنسی ہوئی ہے۔پہلی بلا جہالت کی ہے تدبّر سے کتاب اللہ کو نہیں پڑھتے اور نہیں سوچتے جب تدبّر ہی نہ ہوتلاوت ہی نہ ہو تو اس پر عمل کی تحریک کیسے پیدا ہو۔کتاب اللہ کو چھوڑ دیا گیاہے اور اس کی جگہ بہت بڑا وقت قصوں کہانیوں اور اور لغویات میں بسر کیا جاتا ہے۔دوسرا نقص یہ ہے کہ فسق وفجور بڑھ گیا ہوا ہے۔بد معاملگی ہے۔جہالت ہے گندگی اور ناپاکی کو مقدم کر لیا گیاہے پھر اس کے ساتھ کبر ہے وہ کبر کہ یہ برداشت نہیں رہی کہ کوئی نصیحت کرے تو صبر کیساتھ اس نصیحت کو سن لیں اور اس کے ساتھ اور مصیبت یہ ہے کہ اپنے دکھ سے ناآشنا ہیں مرض کے حالات سے ناواقف ہیں اسے محسوس نہیں کرتے طبیب کی تشخیص پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور اسے ہی مجنون ٹھہراتے ہیں۔غرض یاد رکھو کہ اب زمانہ بہت نازک آ گیا ہے ایک راست باز دنیا میں آیا ہے جس کے