خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 660

خطابات نور — Page 135

سے موجود ہے بنانا نہیں پڑتا۔پھر صرف کی کیا ضرورت ہے۔رہی نحو قرآن شریف میں زیریں زبریں پہلے سے موجود ہیں۔پھر اس نے گھبرا کر کہا کہ اچھا معانی بدیع کی ضرورت ہے۔میں نے کہا کہ وہ امر زائد ہے۔جب وہ اس سے بھی رکا تو کہنے لگا کم از کم لغت کی تو ضرورت ہے۔میں نے کہا کہ اگر تم اپنی ہی بولی پر ذرا غور کر کے قرآن شریف پڑھو تو لغت کی بھی بڑی ضرورت نہیں ہے۔تم کوئی آیت قرآن شریف کی پڑھو میں تمہیں ترجمہ کر کے دکھا دیتا ہوں۔خدا کی قدرت ہے اس نے یہ آیت پڑھی  (الاحزاب :۷۱) میںنے کہا کیسی صاف بات ہے گلائو گل سدھی۔خیر یہ تو اس وقت کی بات تھی پھر میں نے غور کیا ہے کہ قرآن شریف کے الفاظ دو اور تین ہزار کے درمیان ہیں۔اگر ہم مسلمانی زبان مثلاً ان شاء اللّٰہ۔لاحول ولا قوۃ الّا باللّٰہ وغیرہ اور ان کا ترجمہ سیکھ لیں تو قرآن شریف کے دستور العمل بنانے کا سارا حصہ حل ہو جاتا ہے۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ دعا مانگ کر تقوی اللہ کے لئے قرآن شریف کھولے اور نیک صحبت اختیار کر لے اور پھر ایک دور قرآن شریف کا ختم کرے۔جو مشکلات رہ جائیں ان کو نوٹ کر لے۔پھر دوسری مرتبہ بیوی کو سنائے۔اس مرتبہ میں وہ مقامات جو حل طلب باقی تھے ان میں سے کئی ایک حل ہو جاویں گے پھر تیسری مرتبہ اور عزیزوں کو بھی شریک کر لے چوتھی مرتبہ کا ذمہ وار خدا ہے۔اس مرتبہ قرآن شریف بالکل آجاوے گا۔یہ میرا تجربہ کردہ نسخہ ہے۔پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے (اٰل عمران :۱۰۴) اس انعام الٰہی کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے تم باہم دشمن تھے تمہارے دلوں میں ایسی الفت ڈالی کہ تم باہم بھائی بھائی ہو گئے۔رات کو دشمن سوئے تھے صبح کو اخوان بن کر اٹھے کیسا فضل ہے۔یاد رکھو جب کوئی مامور من اللہ آتا ہے اس وقت ایک نئی برادری پیدا ہوتی ہے نئی اولاد پیدا ہوتی ہے اور نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالی اس برادری کا نام اخوان رکھتا ہے سارے عرب میں قریش ایک معزز اور سربرآوردہ قوم تھی اور قریش میں بنوہاشم کا خاندان اور بنوہاشم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانا ممتاز اور معزز تھا۔پھر دنیا میں حقارت سے دیکھی ہوئی قوم غلاموں کی ہے۔مگر دیکھو کہ اسلامی اخوت نے کیا کرشمہ دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن زینب کا نکاح زید بن حارث