خطابات نور — Page 136
سے کر دیا گیا تاکہ دنیا کو بتایا جاوے کہ اخوت اس کا نام ہے جو اسلام نے قائم کی ہے۔بلال کا رشتہ قریش میں کرا دیا گیا۔حسّان کا رشتہ ماریہ کی بہن سے کرا دیا۔غرض یہ ایک نمونہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا جو اللہ تعالی کے انعام میں سے تھا۔یہ سچی بات ہے کہ جب تک اخوت کا رنگ پیدا نہ ہو سپر بنانے کے ایک حصہ سے محروم رہتا ہے۔پس یاد رکھو کہ جماعت پر اللہ تعالی کا فضل اسی وقت ہوتا ہے جب اخوت کا مرتبہ پیدا کریں وہ اپنے چھوٹوں کی جو غربا ہیں خبرگیری کریں اور کسی کو حقیر نہ سمجھیں۔اب اس وقت اللہ تعالی نے یہ نمونہ اللہ کو سپر بنانے کا حضرت مرزا صاحب کے وجود میں دکھایا ہے اب وہ وقت پھر آیا ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ حبل اللّٰہ یعنی قرآن شریف کو مضبوط پکڑو۔تمہارا ہر فعل ہر حرکت و سکون قرآن شریف کے احکام کے نیچے ہو۔تم باہم ایک برادری پیدا کرو وہ جو دولتمند اور متمول ہیں وہ اللہ تعالی کے اس فضل و کرم کا شکر یوں کریں کہ اپنے محتاج اور غریب بھائیوں کو حقیر نہ سمجھیں ان کی مدد کریں کوئی قومی تفاخر تم میں ایسا نہ ہو جو دوسروں کو ذلیل سمجھنے کا محرک ہو۔اللہ تعالی کے حضور مکرم و معظّم متقی ہی ہیں۔(الحجرات :۱۴)حضرت مرزا صاحب کی شرائط بیعت میں یہ بات موجود ہے کہ تمام مخلوقات سے عموماً اور اپنے سب بھائیوں سے خصوصاً پیار کرنا چاہئے۔اب ہم سب مرزا صاحب میں ہو کر معزز و مکرم ہیں اور ہوں گے۔ان شاء اللّٰہ۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان اور انعام کا ذکریوں فرماتا ہے (اٰل عمران :۱۰۴) تم ایک آگ کے گڑھے پر پہنچ چکے تھے ہم نے تم کو بچا لیا۔اللہ تعالیٰ ان آیات کو اس لئے بیان فرماتا ہے کہ تم بھی اس راہ کو اختیار کرو۔جب قرآن دنیا میں نازل ہوا اس وقت عظیم الشان اختلاف موجود تھا۔قرآن نے آکر وحدت کی روح پھونکی۔اب اس وقت بھی بہت بڑا اختلاف پھیل رہا ہے۔یہ اختلاف بھی قرآن ہی سے دور ہو گا۔پس اس اختلاف کو مٹانے کے لئے علوم القرآن کی ضرورت ہے جو احمد کے غلام پر نازل ہو رہے ہیں اور اس کا خدا کی طرف سے ہونا تم دیکھ چکے ہو کہ وہ کیونکر مخالفوں کے حملہ سے محفوظ رہتا ہے جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی سپر میں ہے۔پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ تم قرآن کو اپنا دستورالعمل بنائو اور اس کا نمونہ احمد