خطابات نور — Page 134
برداشت کرنی پڑی تھیں بیان کیا جاوے تو دل ہل جائیں بدن پر لرزہ پڑ جا وے۔مگر اپنے دلوں میں ٹٹول کر دیکھو کہ تم نے اس کی کیا قدر کی؟ کس قدر محنت اور اس کے پڑھنے پھر سمجھنے اور دستورالعمل بنانے کے واسطے کی۔جس قدر روپیہ انگریزی تعلیم کے حاصل کرنے کے واسطے خرچ کرتے ہو اس کا سوواں حصہ بھی تو قرآن پر خرچ نہیں کیا۔یاد رکھو جب تک قرآن پر عمل نہ ہو گا یہ ادبار اور تنزل جو مسلمانوں کے شامل حال ہے ہرگز دور نہ ہو گا مگر قرآن پر عمل کرنے کے واسطے قرآن کا فہم ضروری ہے اور فہم بدوں تقویٰ کے آ نہیں سکتا اور تقویٰ ہو نہیں سکتا جب تک مجاہدہ نہ ہو۔مجاہدہ ممکن نہیں جب تک اخلاق فاضلہ نہ ہوں اور اخلاق فاضلہ کے حاصل کرنے کے واسطے امام کے حضور رہنا ضروری ہے۔پس یہاں آئو اور امام کے حضور رہ کر اس بات کے حاصل کرنے کی فکر کرو جس کے لئے اللہ تعالی نے اس کو مبعوث فرمایا ہے۔میں نے سارا قرآن شریف ماں کی گود میں پڑھا ہے۔ایک سبق کی بابت تو مجھے یاد ہے کہ والد صاحب نے مسجد کی چھت پر دیا تھا اس کے بعد کسی اور سبق کی خبر نہیں ہے۔اس وقت کا پڑھا ہوا اب دن میں کئی بار اور کئی رنگوں میں پڑھتا ہوں۔قرآن ہی میری غذا اور میری روح کی فرحت کا ذریعہ ہے باوجود اس کے کہ دن میں کئی بار پڑھتا ہوں لیکن میری روح کبھی سیر نہیں ہوتی۔غرض قرآن کریم کو اپنا دستورالعمل بنائو کہ یہ شفا ہے، رحمت ہے، نور ہے ،ہدایت ہے۔اور پھر خدا فرماتا ہے (اٰل عمران :۱۰۴)میری رضا کا طریق مجھے سِپر بنانے کا ذریعہ یہی ہے کہ قرآن کریم کو اپنا دستوالعمل بنائو اور اس کا نمونہ اس وجود میں دیکھو جو میری سپر کے نیچے ہے۔اُس کے خلاف چال نہ چلو اور قرآن کریم کی خلاف ورزی نہ کرو اور اس کی ایک ہی راہ ہے کہ قرآن کریم کا علم پیدا کرو اور علم سعی اور مجاہدہ پر منحصر ہے اللہ تعالی فرماتا ہے (العنکبوت :۷۰)جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہوں کی طرف ہدایت کر دیتے ہیں۔ایک بار وزیرآباد کے ریلوے سٹیشن پر ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ قرآن کیونکر پڑھیں صرف و نحو تو آتی نہیں۔میں نے کہا صرف و نحو کی ضرورت نہیں ہے۔قرآن شریف میں قال پہلے