خطابات نور — Page 63
صحبت میں رہنے کا حکم دیا ہے اور انسان چونکہ متمدن ہے بعض اوقات اس کو مشکلات پیش آجاتے ہیں اور وہ ہر دم اس سرکار میں حاضر رہنے سے معذور ہوسکتا ہے۔اس لئے معمولی دوری کو انقطاع کلی کا موجب نہیں ہونے دینا چاہئے۔جس قدر دور ہوتا جاتاہے۔اسی قدر سستی اور کاہلی پیدا ہوسکتی ہے اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور کثرت استغفار نہ ہو۔اس لئے انقطاع کلی سے بچانے کے لئے حکم دیا ہے۔(التوبۃ :۱۲۰) یعنی اہل مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والوں کا یہ کبھی حال نہ ہو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص کام میں توجہ کریں تو یہ اپنی جگہ سمجھیںیا نہ سمجھیں اس کی خلاف ورزی کریں۔انسان ہمہ دان نہیں: انبیاء ومرسلین کے کام اللہ تعالیٰ کے اشارے اور ایما کے ماتحت ہوتے ہیں اور ان میں باریک در باریک اسرار اور غوامض ہوتے ہیں۔موٹی عقل سے دیکھنے والوں کی نظرمیں ممکن ہے کہ ایک فعل مفید معلوم نہ ہو لیکن دراصل اس میں مآل کار قوم اور ملک کے لئے ہزاروں ہزار مفاد اور بہتریاں ہوتی ہیں تو یہ اس کی حماقت ہوگی اگر اس پر اعتراض کردے۔نادان انسان ہر فعل کی علت غائی اور ضرورت کو نہیں سمجھتا اور نہ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ ہر ایک فعل کی علت غائی ہی سوچتا رہے۔ایک کیکر کے درخت کو جو اس قدر کانٹے لگائے اور شیشم یا آم کے درخت کو ایک بھی کانٹا نہ لگایا۔اب اگر ایک احمق اعتراض کرے کہ یہ کیا کیا کیکر کے درخت کو کانٹے کیوں لگائے اور دوسرے کو کیوں نہ لگائے یہ اس کی نادانی ہوگی یا نہیں؟ اس کی مصلحت اور ضرورت کو تو وہی خدا سمجھتا ہے جس نے کیکر اور آم کو بنایا ہے۔دوسرا کیونکر اسے سمجھے۔اسی طرح پر انبیاء کے افعال و حرکات جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے اللہ تعالیٰ کے خفی و جلی احکام اور اشارات کے ماتحت ہوتے ہیں۔بعض اوقات ان کے افعال عام نظر میں ایسے دکھائی دئیے جاتے ہیں جو دوسروں کو اعتراض کا موقع ملتا ہے۔مگر در حقیقت درست اور صحیح وہی ہوتا ہے۔اب ایک آدمی دیکھتا ہے کہ بدر کے جنگ میں تین آدمی مخالفوں کی طرف سے نکلے ہیں اور تین ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی