خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 62 of 660

خطابات نور — Page 62

پھر قرآن شریف چونکہ حکیم خدا کی کتاب ہے اور وہ انسانی قویٰ اور انسانی ضرورتوں کے علم پر حاوی ہے اس لئے وہ ایک اصل کو تو قائم رکھتا ہے۔ضمنی امور کو اس حد تک جہاں تک انسان کی جائز ضروریات کا تعلق ہے چھوڑ دیتا ہے۔یا یہ کہو کہ وہ کوئی حکم ایسا پیش نہیں کرتا جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو اور وہ اس کی تعمیل ہی نہیں کرسکتا۔چنانچہ صاف فرمایا۔(البقرۃ :۲۸۷) مجھے اس موقع پر قرآن کریم کی عظمت اور کمال کے سامنے روح میں ایک وجد محسوس ہوتا ہے اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر یہی زبردست دلیل نظر آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کی ایک بڑی قوم جو آج اپنی دانش اور سمجھ پر اتراتی ہے اپنی ایجادوں اور صنعتوں پر ناز کرتی ہے۔اپنے ہدایت نامہ کو بکلی چھوڑ بیٹھے ہیں محض اس لئے کہ اس کی تعلیم ناممکن العمل ہے اور وہ ایسی تعلیم ہے جس کے معلم کی نسبت تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ انسانی قویٰ کی حقیقت سے بالکل ناواقف اور نا آشنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ زندگی کے کسی حصہ اور شعبہ کے لئے انجیل کی ہدایت نہیں مل سکتی۔ایک شوہر، ایک باپ، ایک کمانڈر انچیف‘ ایک قاضی اور جج‘ ایک سلطان جلیل القدر، ایک متبتّل الی اللہ درویش، ایک مقنّن، ایک جوّاد انسان بتائو انجیل سے کیا ہدایتیں لے سکتا ہے۔ہماری گورنمنٹ مذہبًا عیسائی ہے لیکن اگر وہ انجیل کے موافق عملدرآمد کرنا چاہے تو آج پولیس اور فوج کو الگ کرے اور کوئی ہندوستان مانگے تو یہ دوسرے حصے سلطنت کے دینے کو تیار ہوجاوے۔ایک گال پر طمانچہ کھاکر دوسری پھیردینے پر عمل شروع ہوتو آج انگلستان کا صفایا ہوجاوے۔ملک کا امن چین خطرناک حالت میں پڑ جاوے۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اس پر عمل نہیں اور عملی طور پر یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ انجیل ہدایت نامہ نہیں ہے اور وہ انسانی زندگی کی ضروریات سے ناواقف شخص کے خیالات ہیں۔غرض یہ ذکر تو ذوق بیان کی وجہ سے درمیان آگیا۔میں یہ بیان کرنا چاہتا تھا کہ قرآن شریف چونکہ اللہ علیم و حکیم کی کتاب ہے۔اس لئے وہ انسانی ضرورتوں اور ان کی مجبوریوں کا پورا علم اور فلسفہ اپنے اندر رکھتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک