خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 64 of 660

خطابات نور — Page 64

طرف سے نکلے ہیں کوئی کہے کہ تین کے مقابلہ میں ڈیڑھ کافی تھا۔آپ نے تین کیوں بھیجے جو چھ کے لئے کافی تھے؟ مگر وہ بڑا ہی احمق اور نادان ہوگا جو کہے کہ یہ کارروائی غلط تھی۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کی مرسل مخلوق کو اپنی فراست پر قیاس نہیںکرلینا چاہئے۔اسی لئے فرمایا کہ خیر القرون کی مخلوق کو تخلّف جائزنہیں ہے۔خواہ اس میں مصائب اور مشکلات ہی پیدا ہوں اور ہوتے ہیں مگر جب وہ اپنا کام اس پر مقدّم نہ کریں گے تو کیا یہ تکالیف اور مصائب اکارت جائیں گے؟ کبھی نہیں۔سنو! (التوبۃ :۱۲۰)۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ سفر میں پیاس لگتی ہے موقع پر پانی نہیں ملتا۔بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔تکان یا تکالیف ہوتی ہے۔ایسا ہی سفر میں ممکن ہے کہ روٹی نہ ملے یا ملے تو وقت پر نہ ملے اس قسم کی صدہا قسم کی تکلیف ہوتی ہے۔اس قسم کی تکالیف اور مشکلات اگر اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں اور یا دشمن سے کوئی فائدہ حاصل کرلے۔غرض حضور الٰہی میں ان کا ثمرہ ضرور ہوتا ہے اور ان کے ذمہ اعمال میں نیک عمل لکھا جاتا ہے۔خدا چونکہ شکور خدا ہے وہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔۸؎ محسنین کے معنی: مولا کریم چونکہ شکور ہے اور علیم و خبیر ہے اس لئے وہ فرماتا ہےبے شک اللہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا۔محسن کسے کہتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احسان کی تعریف جبرئیلؑ نے صحابہ کی تعلیم کے لئے پوچھی ہے آپ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا کم از کم یہ کہ یقین کرلے کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو دیکھتا ہے۔یہ ایک ایسا مرتبہ عظیم الشان ہے جس کے کسی نہ کسی پہلو کے حاصل ہوجانے پر انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے اور بڑے بڑے مراتب اور مدارج اللہ تعالیٰ کے حضور پالیتا ہے۔ساری نیکیوں کا سرچشمہ اور تمام ترقیوں اور بلند پرواز گیوں کی جان اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق فاضلہ کو حاصل ہی نہیں کرسکتا جب تک خدا تعالیٰ پر یقین نہ ہو کہ وہ ہے۔میں اس بات کے ماننے کے واسطے کبھی تیار نہیں ہوسکتا کہ ایک دہریہ بھی کبھی اعلیٰ مراتب کے اخلاق فاضلہ والا ہوسکتا