خطابات نور — Page 55
اور پھر سوچ کر بتائو۔میں خود ہی اس سوال کا جواب دے دیتا ہوں۔صحابہ نے جس قدر ترقیاں کیں جو جو مدارج عالیہ انہوں نے حاصل کئے ان سب کا اصل سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت اور معیّت ہی تھی جس نے ان کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت اس درجہ تک کوٹ کوٹ کر بھردی تھی کہ جس کے مقابلہ میں انہوں نے وطن، آبرو، عزت، راحت، دولت، آسائش،عزیزواقرباء غرض دنیا کی کسی چیز اور کسی تعلق کی پروا نہیں کی۔اور تو اور انہوں نے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی اپنے خون پانی کی طرح بہا دئیے وہ بات جس نے ان میں یہ قوت یہ شجاعت و استقامت اور ایثار نفس پیدا کردیا تھا یہی تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہتے اور آپ کے ساتھ تعلق کو اتنا شدید کیا اور ایسے وابستہ ہوئے کہ وہ سکینت اور اطمینان جو خدا کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی تھی جس نے آپ کا شرح صدر فرمایا۔اس تعلق اور محبت کی نالی کے ذریعہ صحابہ کے دل پر بھی اترتی تھی اور ان کے شرح صدر کرکے نور یقین سے بھرتے جاتے تھے۔۶؎ وہ محبت اور اخلاص جو صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔اس کے مقابلہ میں انہوں نے نہ وطن کی پروا کی اور نہ عزت و آبرو و راحت و آرام کو مدنظر رکھا۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فنا فی الرسول کے مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس میں پورے کامیاب ہوئے۔عرب جیسے اکھڑ اور آزاد، خودرائے قوم تھی لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فیض صحبت سے مستفیض ہوئے تو ان کی یہ حالت تھی کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک مجلس میں ان کو دیکھتا تو اسے صرف بت نظر آتے ہر ایک اپنی اپنی جگہ خاموش بیٹھا ہے اور اتنا حوصلہ جرأت نہیں کرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان پر پیش دستی کرے اور بولنے لگے۔کیوں؟ اس لئے آداب الرسول: کہ انہیں حکم ہوچکا تھا (الحجرات :۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی بات بڑھ کر نہ کرو۔یہ چھوٹی سی بات نہیں اتنی بڑی جماعت کو یہ حکم ہوتا ہے کہ تم کچھ نہیں بول سکتے ہمارے بھیجے ہوئے رسول کی اتباع کرو۔