خطابات نور — Page 54
اطلاع دوں جو مجھے یہاں رہ کر حاصل ہوئے ہیں اور جنہوں نے دنیا کی ساری دولت کو میرے سامنے ہیچ کردیا ہے تاکہ وہ بھی یہاں رہ کر وہ بات حاصل کریں جو حضرت امام کے آنے کی اصل غرض ہے۔اس امر کے اظہار سے میری یہ بھی ایک غرض ہے کہ ان لوگوں کو ابتلا سے بچائوں جو کبھی کبھی بدظنی کربیٹھتے ہیںکہ میں دوسروں کو حقیر سمجھ کر بلانے پر قادیان سے باہر نہیں جاتا۔تم جو یہاں موجود ہو یاد رکھو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہاں اپنے ہی فضل سے مجھے اس راہ کی ہدایت فرمائی ہے کہ الٰہی فیوض و برکات کے حصول کا اصل ذریعہ ایمان باللہ اور تقویٰ ہے۔مگر ایمان باللہ اور تقویٰ اللہ کی حقیقت اور کیفیت پیدا نہیں ہوسکتی جب تک کہ صادق کی صحبت میں نہ ر ہے اور مجھے اپنی ذات پر تجربہ کرنے سے اس کی قدر معلوم ہوئی ہے۔اس لئے میں کھول کر کہتا ہوں کہ اگر چاہتے ہو کہ وہ انوار سماوی اور روحانی برکات حاصل کرو جو روح کے تقاضوں کی انتہا ہیں تو سنو! یہاں آئو اور صادق کی صحبت میں رہو اور اس سے وہ فیض لو جو وہ لے کر آیا ہے۔غرض مامور من اللہ اور صادق کی صحبت اور معیّت ضروری ہے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ کوئی انسان اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ہی ذات پر بھروسہ کرے اور اپنی تجویزوں اور تدبیروں سے اعلیٰ کامیابیوں تک پہنچے اور اس امر کی پروا نہ کرے کہ مامورمن اللہ اور صادق کی صحبت میں رہنے سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ بیوقوف ہے اپنا دشمن ہے۔دیکھو اس خیر القرون میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرن تھا۔خدا تعالیٰ کی برکات اور فیوض کی بارش کا وقت تھا لیکن کل عرب و عجم نہیں ساری دنیا میں سے مکّہ کو جوامّ القریٰ ہے منتخب فرمایا اور سارے مکّہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور پھر عبداللہ اور آمنہ کے بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دنیا کو ان انوار و برکات سے بہرہ ور کرے پھر خیرالقرون میں صحابہ نے اور تابعین اور تبع تابعین نے کیسی ترقی کی؟ انہوں نے اپنے سلوک کے منازل کو طے کرنے کے واسطے کیا راہ اختیار کی؟ کیا یہ کہ آپ کا اقرار کر لیا آپ کو صادق تسلیم کرلیا اور پھر آپ کے پاس آکر نہ بیٹھے۔اپنے گھروں میں جاکر اپنے کاروبار میں مصروف ہوکر روپیہ کمانے کی فکر میں ہوگئے اور پاس نہ رہنے کے لئے دنیا اور اس کے مخمصوں کا عذر کردیا؟ سوچو!