خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 570 of 660

خطابات نور — Page 570

(المؤمنون:۱تا۲۳) سلسلہ کلام کل میں نے تم کو ایک بات بتائی تھی اور وہ بات تھی ایمان کے متعلق اور ایمان کے اصول بتائے تھے۔ان میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء، صفات اور افعال پر ایمان لانا اور ان میں کسی دوسرے کو شریک نہ سمجھنا اور نہ اس کی عبادات و تعظیم میں کسی اور کوشریک ٹھہرانا۔پھر صفات الٰہیہ کے مظاہر اول ملائکہ پر ایمان لانا اوران کی پاک تحریکوں پر عمل کرنے کی کوشش کرنا کیونکہ ان تحریکوں پر عمل کرنے سے ملائکہ کا تعلق بڑھتا ہے اور وہ نیکیوں کی اور تحریک کرتے ہیں۔پھر نبیوں پر ایمان لانا پھر جزاو سزا کے مسئلہ پر ایمان لانا اور قیامت پر ایمان رکھنا۔پھر بتایا تھا کہ قرآن کریم حبل اللہہے اس کو سب مل کر ایک وحدت کے نیچے مضبوط پکڑے رہنا اور یہ دو طرح پر ہوتا ہے اول قرآن کریم کی تعلیم وہدایت کی فرمانبرداری اور عملی زندگی دوسرے قرآن کریم کے خلاف کوشش کرنے والوں کے حملوں کا دفعیہ۔پھر قرآن کریم کے سمجھنے کے اصول بتائے تھے ان اصولوں کے سمجھنے سے ہی عملی زندگی اور قرآن کریم کے دشمنوں کے حملوں کے جواب کی توفیق ملتی ہے اور پھر جب انسان قرآن کریم کو سمجھتا ہے تو مومن بنتا ہے۔اب اس مومن کو یہاں خطاب ہے۔ایسے ہی مومن کو خطاب کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ پھر کامیابی اور مظفر ومنصور ہونے کا دستور العمل کیا ہے؟ کل میرا مضمون نصف رہ گیا تھا آج اس ایمان کے برگ و بار ، ثمرا ت یا یوں کہو کہ لوازمات وتکمیل کا ذکر کرتاہوں اس رکوع میں اسی کو مد نظر رکھا گیا ہے۔مومن ہونے کے کل اصول بتائے تھے آج بتایا ۔ایمان کامیابی کی کلید ہے مومن کی فطرت میں ہے کہ وہ کامیاب ہو جاوے۔کامل مومن کبھی اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔پس اگر تم مومن ہو تو تمہاری بھی کچھ خواہشیں ہوں گی اور ان خواہشوں کا خلاصہ ہوگا کہ تم اپنے مقاصد میں مظفر و منصور ہو جائو اور فتح مند