خطابات نور — Page 571
بن جائو۔تمام کامیابیوں کا گُر یہاں بتایا ہے فتح مند ہونے کی لوگوں نے مختلف تدبیریں سوچی ہیں مگر فتح مندی کا تاج سر پر رکھنے کے لئے جواصل قرآنِ کریم نے بتایاہے وہ یقینی اور ناقابل خطاہے۔بعض تو اپنی جگہ سودے بناتے رہتے ہیں اورشیخ چلیّ کے سے منصوبے سوچتے رہتے ہیں۔ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ بازار میں سر اور انگلیوں کو ہلا تا چلاجاتا ہے مجھے پہلے خبر نہ تھی میں نے سمجھا کہ مصیبت میں مبتلا ہے اس سے نکلنا چاہتا ہے مگر معلوم ہوا کہ خیالی پلائو پکار ہا ہے۔ہمارے ملک میں شیخ چلّیکی ایک کہانی مشہورہے کہ وہ کسی شخص کے مزدور ہوئے اور سر پر ایک ٹوکرا اٹھایا ہوا تھا۔راستہ میںاس مزدوری کے پیسوں پر ایک خیالی سلسلہ جو مشہور ہے اور سب جانتے ہیں اس نے شروع کیا اور ایک موقع پر اسی سلسلہ میں وہ ٹوکرا گر گیا اور مالک کا نقصان ہو گیا۔اس نے ڈانٹا تو کہا کہ تم اس اسباب کے نقصان کو روتے ہو میرا سارا کنبہ ہی تباہ ہو گیا ایسے لوگوں کا انجام اسی قسم کا ہوتا ہے۔یہ خیالی تدبیریں اور منصوبے کامیابی کی منزل پر نہیں پہنچاتے ہیں۔کامیابی مومن کا حصہ ہے جو لوگ محض بڑے بڑے خیالات اٹھاتے رہتے ہیں وہ کامیابی کا منہ نہیں دیکھتے۔پس میرے دوستو!تم اٹکل بازیوں اور منصوبوں کو چھوڑ دو۔کامیابی کا گُر وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کیونکہ دنیا کے اسباب اور کامیابیوں کا آ پ ہی خالق ہے اس لئے اللہ پر بھروسہ کرو۔کامیابی کا پہلا گُر میں بتایا کہ ہم کامیابی کی تدبیر بتاتے ہیں ایسی تدبیر جو قطعی اور یقینی ہے اور وہ یہ ہے ۔پہلی تدبیر یہ ہے کہ نمازوں میں خشوع کرو۔نمازوں میںخشوع کیا ہوتا ہے ؟یہ ایک حالت ہے جب انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اس کی مثال اور حقیقت اس طرح پر بیان کی ہے (الحج:۶) زمین جب ویران ہوتی ہے نہ اس پر پودے اگتے ہیں نہ پھل پھول ہوتے ہیں اس میں کوئی دلربائی نہیں ہوتی، نہ سبزہ لہلہاتا ہے نہ پرند چہچہاتے ہیں۔پس جب تم نماز پڑھو تو اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھو جب تم اپنی حالت اس طرز کی بنائو گے تو پھر جیسے اجڑی ہوئی زمین پر رحمت کی بارش ہو کر اسے سبزہ زار بنا دیتی ہے اور اس میں پڑے ہوئے بیجوں کو نشوو نما بخشتی ہے اسی طرح پر