خطابات نور — Page 567
ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما بیت المال سے دو دو سو اونٹ بخش دیتے تھے اور کسی کی مجال نہ تھی کہ چوں کرے اور کہہ دے کہ ایک پیسہ نہ دیں گے۔یہاں ایک مکان کے متعلق کسی نے مجھ سے رعایت چاہی تو کسی نے کہہ دیا کہ تو اپنے فرض کو نہیں سمجھتا۔میں نے کہا کہ میں تو اپنے گھر کی کھاتا ہوں، میرے گھر میں لکڑی ،آٹا، بھوسہ سب میرا اپنا ہوتا ہے اور میرا مولیٰ مجھے خوب دیتا ہے۔بہر حال ایسے سائل آتے ہیں اور مجھے جواب دینے کی عادت نہیں۔میرا جی چاہتا ہے کہ حاجتمندوں کو مدد دوں۔ششم یہاں کے لڑکے سمجھتے ہیں کہ میں امیرالمؤمنین ہونے کے ساتھ امیر بھی ہوں وہ میرے پاس کاپی اور کپڑوں کے واسطے درخواستیں دیتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی کہہ دیتے ہیں کہ ابھی ضرورت ہے۔آپ لکھ دیں کہ دے دیا جاوے پھر ان کے بڑے بڑے بل آتے ہیں۔ہمارے دوست اپنے بچوں کے اپنے پرانے کپڑے جوتے وغیرہ یہاں بھیج دیا کریں تاکہ ایسے بچوں کے کام آسکیں۔ہفتم لنگر خانہ ساڑھے چار ہزار کا مقروض ہے۔ایک دوست نے لنگر خانہ کے متعلق خط لکھا کہ قادیان میں جو لنگر سے کھاتے ہیں بڑے حرام خور ہیں۔میں نے کہا کاش وہ یہاں رہتا تو اسے معلوم ہو جاتا اب تمہارے دل میں جو حیرت ہو گی کہ کیا دال ساڑھے چار ہزار کھا گئی؟ اس کے سا تھ ہی میںخوش خبری سنا تا ہوں کہ ہمارا ایک دوست پرانا مخلص حامد شاہ سیالکوٹ کا رہنے والا ہے وہ اس قرض کے ادا کر دینے کا اقرار کرتا ہے کہ سیالکوٹ والے ادا کر دیں گے۔ہشتم یہ عمارت ہے جس کی کمر ٹوٹ گئی ہے اس کو ساڑھے سات ہزار میں نے دیا تھا اور کچھ شیخ رحمت اللہ اور لاہوری حضرات نے اور ایک ہزار ایک اور مخلص دوست کو کہہ دیا اس نے دے دیا مگر اس کو دے دیا گیا ہے اور میرا اب بھی تینتیس سو ہے۔غرض یہ عمارت آٹھ ہزار پچھلا مانگتی ہے اور اس کی کمر کے لئے مومیائی کی ضرورت ہے دو انجمنیں بول پڑیں تو یہ رقم پوری ہو جاوے۔نہم مقبر ہ بہشتی اڑہائی ہزار کا مقروض ہے (حکیم محمد حسین مفرح عنبریں کے موجد کہتے ہیںکہ یہ لاہور کی جماعت ادا کر دے گی )اشاعت میں ایک ہزاراور سب سے مقدم ایک مدرسہ ہے جواحمدؐ کے نام پر قائم کیا گیا ہے اور وہ بارہ سو کا مقروض ہے (اشاعت کے لئے قادیان والوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم دے دیں گے اور مدرسہ احمدیہ کے لئے فیروزپور نے۔اس کے بعد چندہ