خطابات نور — Page 568
ہونے لگا۔ایڈیٹر) آخری نصیحت خدا کے فضل سے بہت سا حصہ تو اس قرض کا پورا ہوگیا اور باقی بھی تم خدا کے فضل اور توفیق سے پورا کردوگے اب میں تمہیں یہ نصیحت کرتاہوں کہ بدظنی چھوڑ دو۔سارے قرآن میں ابو جہل کا نام نہیں حالانکہ وہ بڑا دشمن تھا۔یہ نام نہ اس نے خود نہ اس کے ماں باپ نے رکھا۔اللہ پاک نے پسند نہ کیا کہ یہ نام قرآن میں ہوتا۔ابولہب ایک لفظ قرآن میں آیا ہے لوگوں نے ایک شخص کو گڈّا بنا لیا مگر مجھے تو پتا نہیں لگا کہ یہ کس کا نام ہے حَمَّالَۃَ الْحَطَب بھی کسی کا نام نہیں۔میاں صاحب نے ایک خط کا ذکر کیا ہے یہ سچ بات ہے کہ وہ خط میں نے ہی ان کو دیا ہے وہ بڑا ہوگا تو اپنے گھر کا ہوگا۔اب لوگ ٹوہ لگاتے ہیں کہ وہ کون ہے۔ایسی باتوں کو چھوڑ دو وہ صدر انجمن کا ممبر نہیں۔بد ظنی سے بچ جائو اور اس برُے آدمی کی کھوج نہ لگائو۔میاں صاحب نے اس کانام نہیں لیا اور میں ان کو قسم دیتا ہوں کہ وہ نام نہ لیں۔ممکن ہے یہ اس کو خط لکھیں تو سیدھا ہو جاوے اور اگر تم میں سے کوئی کچھ کہے تو شاید اس کی وہ حالت ہو جاوے۔منہ توں لتھی لوئی توکیا کرے گا کوئی۔بد ظنی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑاسخت لفظ بولا ہے ایاک والظن ان الظن اکذب الحدیث(صحیح مسلم کتاب البر و الصلۃ) مجھے میرے مولا نے خوب سمجھایا ہے اور واقعات سے اس حقیقت کو کھول دیا ہے۔ایک کتاب مجھے بہت پسند تھی اسے بہت پڑھتا۔اس کو میں نے الماری پر رکھ دیا پھر جو دیکھا تو وہاں نہیں۔برسوں تلاش کی مجھے بدظنی ہوئی کہ کوئی چرالے گیا جب جموں سے چلنے لگا اور اس الماری کو اکھاڑا تو پیچھے سے مل گئی اس واقعہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا کہ تم تو بدظنی کرتے تھے کہ کسی نے چرالی۔ایسا ہی ایک ٹوپی کے متعلق خیال گزرا مگر وہ ٹوپی ایک نیک بی بی نے میرے بستر کی ایک تہ کے نیچے رکھ دی تھی۔غرض بد ظنی نہ کرو اس سے بہت خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔دوم تفرقہ نہ کرو۔سوم کسی امر کو جو خوف یا امن کا ہو امام کے پاس پہنچائو۔تم خود اس کو جماعت میں نہ پھیلائو۔اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے۔(آمین) (الحکم ۲۱؍۲۸؍فروری ۱۹۱۵ء صفحہ۲،۳)