خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 565 of 660

خطابات نور — Page 565

۔غرض میں قرآن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا وہ میری غذا ہے اس لئے اس نکتہ کو غور سے سنو! جہاں کوئی بڑی عمارت بنتی ہے جیسے یہی ہے (مدرسہ کی طرف اشارہ کرکے کہا )یہ کوئی بڑی عمارت نہیں میں نے تو ایک شخص کا اتنا بڑا گھر دیکھا ہے جس میں ساری قادیا ن آجاوے۔ساتند جودر کا اتنا بڑا گھر تھا میں نے تو گھوڑے پر سوار ہو کر کوشش کی کہ اس کو ختم کروں گا مگر نہ کر سکا۔ایک شاعر اس در کے پاس گیا اور اس سے سوال کیا میں اس شاعر کو جانتا ہوں وہ میرے پاس بھی آیا کرتا تھا رئیس اس وقت خالی ہاتھ تھا اس نے اس سے کہا کہ تم ہر وقت سوال کرتے رہتے ہو۔اس نے جواب دیا کہ گلستان والا سکھا گیا ہے اس نے مصیبت میں ڈال دیاہے وہ کہتا ہے ؎ رزق ہر چند بے گماں برسد شرط عقل است جستن از درہا اس پر اس رئیس نے اپنے آدمیوں کو کہا کہ خواہ قرض لے کر دو کسی طرح دو ، اس کودو۔چنانچہ اسے دیا گیا۔پس میں اس وقت اللہ کی رضا کے لئے اور تمہیں نیکی سکھانے کے واسطے چند تحریکیں کرتا ہوں۔میرا ارادہ ہے کہ اس تقریر کو پورا کروں اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور میں زندہ رہا اور پھر صحت و طاقت ملی اور قوت قائم رہی تو کل پورا کروں گا۔بیچ میں کچھ ضرورتیں ہیں وہ پیش کرتا ہوں۔اوّل ایک ہمارے دوست ہیں، حضرت صاحب کے زمانہ سے دوست ہیں جماعت کے اول اتحاد میں ہیں اور سلسلہ کی انہوں نے بڑی خدمت کی ہے۔وہ صاحب الحکم ہیں۔وہ اپنی غلطیوں سے (وہ سمجھتے نہیں اورنہ مانیںگے)ابتلاء میں ہیں۔میں نے جب ان کے لئے دعا کے واسطے ہاتھ اٹھائے ہیں اور بڑی تڑپ سے ان کے لئے دعا کی ہے تو مجھ پر ظاہر ہوا کہ ابتلاء ہے۔بہر حال الحکم زیر بار ہے اور انسان کو جو تکلیف پہنچتی ہے اپنے ہی اعمال سے تکلیف ہوتی ہے۔اس زیر باری کے دور کرنے کے واسطے چھ ہزار کی اپیل کرتا ہوں۔نور دین کے پاس ہے یا نہیں وہ بھی ان کو سبکدوش کرنے میں قوم کے ساتھ شریک ہوگا۔تم بتائو کیا تجویز ہے؟ اس کے پاس کتابوں کے ڈھیر ہیں مگر کتابوں کے متعلق میرا تجربہ ہے میرے پاس تو لاکھوں کی ہیں اگر ضرورت کے وقت ایک لاکھ پانچ سو کی بھی بیچنا چاہیں تو نہیں بکتیں۔میں اس دوست کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جس قیمت پر بک سکتی ہیں بیچ دیں اور تم لوگ خرید لواور فکر کرو کہ اس کو سبکدوش کر دیا جائے وہ استغفار بہت کریں تاکہ تلافی ہو۔تمہیں