خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 419 of 660

خطابات نور — Page 419

قرآن شریف کو چھوڑ دیا۔اس واسطے  کے موافق تمہیں بدلہ دیا اور سر کچلا گیا۔وہ احمق نہیں جانتا کہ میر ا سر خدا ہی کے فضل سے بالکل محفوظ ہے باوجودیکہ تم نے دیکھا کہ چوٹ لگی اور سال گزشتہ کے انہیں دنوں میں بچنے کی امید نہ تھی۔کلورافارم کے ذریعہ اور کلورا فارم کے بدون بھی اس زخم پر جراحی عمل ہو ا مگر ڈاکٹر و دوسرے لوگ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دماغ کی کیسی حفاظت فرمائی۔جو لوگ میری صحبت میں رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے زیادہ مجھے کوئی کتاب عزیز نہیں اور میری غذاجس سے میں زندہ رہتا ہوں اللہ تعالیٰ ہی کی کتاب ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور محض فضل سے مجھے اس کتاب کی محبت اور اس کا فہم دیا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ یہ اس کا رحم ہے کہ اس کتا ب کا فہم کرنے والا پاگل نہیں دیکھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے میری دماغی قوتوں کی خود حفاظت فرمائی ہے یہ اس احمق کو غلطی لگی جو وہ سمجھتا ہے کہ میر اسر کچلا گیا۔دوسری کتابیں کیوں پڑھی ہیں میں نے دوسری کتابیں پڑھی ہیں اور بہت پڑھی ہیں مگر اس لئے نہیں کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں وہ مجھے پیاری تھی تھیں بلکہ محض اسی نیت اور غرض سے کہ قرآن کریم کے فہم میں معاون ہوں۔قرآن شریف ہی میں یہ ارشاد ہے (المائدہ:۳)پس میں نے اگر ہزاروں ہزار کتابیں پڑھی ہیں یا پڑھتا اور پڑھاتا ہوںتو قرآن مجید کی اس آیت پر عمل کرنے کے لئے۔اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر عجیب عجیب انعام کئے ہیں جو دوسروں کی سمجھ میں بھی نہیں آسکتے۔کل ہی مجھے ایک کتاب ملی ہے۔اس کی نسبت مجھے الہام ہوا تھاکہ وہ ہند میں نہیں ہے۔میں اللہ تعالیٰ کو تو مالک السمٰوات والارض سمجھتا ہوں اس نے میرے لئے کیا کچھ نہیں کیا جو ایک کتا ب مہیا نہ کر دیتا۔ایک سیاح اتفاقاًیہاں آگیا‘ مجھے برا سمجھتا ہے۔میری نسبت پیشگوئیاں کی ہیں۔میں تو اپنے عشق میں پورا ہوں (یاد رکھو عشق کا لفظ عادتاًبولتا ہوں اس لئے کہ پچھلے بولتے ہیں۔ورنہ قرآن مجید میں یہ لفظ نہیں آیا ہاں حلیہ ابی نعیم سے ایک حدیث نکالی ہے کہ اس میں عشق کا لفظ آیا ہے مگر راوی روایت بالمعنی کرتا ہے)غرض میں نے اپنے اسی عشق کی وجہ سے جو مجھے قرآن کریم کی خدمت اور فہم کے لئے کتابو ں سے ہے۔اس کتاب کا ذکر اس سے کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ہند میں یہ کتاب نہیں۔