خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 660

خطابات نور — Page 376

وسعت کے موافق مجھے یہاں بلانے میں کوئی مقصد رکھا ہوگا مگر میں نے اپنی نیت کو ٹٹولا کہ وہ خدا کے لئے ہے تو میں نے ان کی درخواست کو منظور کرلیا۔میرے دل میں جو بات ہے وہ یہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ جس کو میں یقینا راستباز مانتا ہوں اور تم بھی راستباز یقین کرتے ہو اس شہر میں آیا اور اس نے بڑا دعویٰ کیا جس کو سن کر بڑی مخلوق چونک اٹھی۔بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ اتنا بڑا دعویٰ ایک انہونی بات ہے کس نے ماننا ہے اور کس نے پسند کرنا ہے ہاں اگر اس کی ذاتی وجاہت کی وجہ سے کوئی مان لے تو وہ اگر’’ ماند شبے ماند شبے دیگر نماند‘‘ کا مصداق ہوگا۔ایسے خیالات ان لوگوں کے ہوتے ہیں جو سنت اللہ سے ناواقف اور راستبازوں کے خیالات سے بے خبر ہوتے ہیں۔ایسے لوگ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں۔ایک آیت ہوتے ہیں اور اس رکوع میں بھی جو میں نے ابھی پڑھا ہے آیت کہا ہے۔میں نے بناوٹ سے ترجمہ نہیں کرنا۔یہی لفظ آیا ہے۔(یہ حضرت کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے : (الانبیاء :۹۲)۔ایڈیٹر) اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ہاتھ اپنا فضل ، اپنا کرم، اپنا رحم دکھاتا ہے۔وہ انہیں ایک آیت بتاتا ہے۔وہ ایک نشان ہوتے ہیں اور پھر ان کی صداقت کے نشان عام طور پر دکھائے جاتے ہیں۔اسی طرح پر وہ راستباز جو اس بستی میں آیا ایک آیت اللہ تھا۔اس کو اللہ تعالیٰ نے نشان بنایا اور پھر اس کی سچائی کے لئے اس قدر نشان دکھائے کہ میں اب کہتا ہوں کہ تم سب جو یہاں ہو اس کی سچائی کا نشان ہو۔ہر ایک شخص تم میں سے اس کی سچائی کا نشان ہے۔تم نے اس بات کو نہیں سنا جب خدا تعالیٰ نے اسے تمہارے آنے کے متعلق کہا۔وہ آواز ایسی کان میں پہنچی اور پھر اس نے تمہارے یہاں آنے سے بہت پہلے اس کو سنایا۔(حضرت خلیفۃ المسیح کا اس امر سے یأتون من کل فج عمیق (تذکرۃصفحہ:۳۹)کی پیشگوئی کی طرف توجہ دلانا مقصود تھا۔ایڈیٹر)