خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 377 of 660

خطابات نور — Page 377

ہاں میرے کان میں بھی خدا کی آواز اسی کے ذریعہ پہنچی اور پھر اسی طرح ہوکر رہا۔اس کی صداقت کے اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت سے نشان دکھائے تھے جنہوں نے مجھے کامل یقین دلایا کہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے۔میں ان نشانات میں جو مجھ پر اس کی سچائی کے ظاہر ہوئے۔ایک تمہیں سناتا ہوں۔میں ان دنوں جموں میں ملازم تھا۔میرا ایک داماد عبدالواحد غزنوی ہے میں مولوی عبداللہ غزنوی کا مرید نہیں مگر مجھے ان سے بہت محبت تھی اسی محبت کی وجہ سے میں نے ان کے ایک لڑکے کو اپنی ایک لڑکی بیاہ دی۔وہ ہمارے پاس رہتا تھا اور پڑھتا تھا۔ایک اور شخص تھا جس نے فلسفہ پڑھ لیا تھا اور طب پڑھتا تھا وہ شخص اب بھی زندہ ہے۔قدرت الٰہی کا عجیب نقشہ ہوتا ہے۔ایک دن اس نے پوچھا کہ عبدالحق غزنوی کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ نیک آدمی ہے۔پھر اس نے پوچھا کہ کیا وہ مفتری ہے؟ میں نے کہا میں اسے مفتری نہیں سمجھتا۔(یہ حسن ظن کا نتیجہ ہے جو حضرت کی فطرت میں ہے۔ایڈیٹر) تب اس نے کہا کہ عبدالرحمن لکھوکے کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ وہ بھی مفتری نہیں۔اس پر اس نے کہا کہ مرزا، عبدالحق، عبدالرحمن جب مفتری نہیں تو پھر یہ کیا بات ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کے کان میں کچھ کہتا ہے اور کسی کے کان میں کچھ؟ میں تو ایسے خدا کا قائل نہیں ہوسکتا۔اس کی یہ بات سن کر میرے دل کو بہت دکھ ہوا کہ اس نے ہمارے ڈیرے میں رہ کر اور ہمارا شاگرد ہوکر ایسا بے ادبی کا کلمہ بولا۔میرا دل گھبرایا اور میں اٹھ کر اند رچلا گیا اور اسی حالت میں معاً مجھے غیر طبعی نیند آئی اور اس میں مجھے بتلایا گیا کہ مرزا صاحب پر اعتراض کیا ہے؟ یہ کہ انہوں نے قادیان کو دمشق کہا ہے۔اس وقت اس امر پر اعتراض تھا۔اس کے جواب میں مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آج ہم نے سب کو مجاز بولنے پر مجبور کردیا ہے۔اس کے بعد میں بیدار ہوگیا۔طبیعت کی کوفت جاتی رہی اور میں باہر چلاآیا اور آکر کہا کہ آج مجھے یہ الہام ہوا ہے اور ان لوگوں سے کہا کہ اعتراض تو مجاز کا ہے افترا کا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ آج ان سب کو ہم نے استعارہ پر مجبور کردیا ہے۔میرے ساتھ ان لوگوں کی خط و کتابت نہیں۔اللہ تعالیٰ جس طرح پرچاہے گا اس حقیقت کو کھولے گا۔کچھ دن گزرے عبدالحق غزنوی کا خط میرے نام آیا۔اس سے پہلے کبھی اس کا کوئی خط میرے