خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 375 of 660

خطابات نور — Page 375

قبولیت دعا {تقریر فرمودہ ۲۳ ؍ اپریل ۱۹۱۰ء } ناظرین الحکم کو معلوم ہے کہ مسجد النور کی بنیادی اینٹ حضرت خلیفۃ المسیح نے رکھی تھی۔اب اسی مسجد کا خدا کے فضل سے بہت بڑا حصہ تیار ہو چکا ہے۔۲۳؍ اپریل ۱۹۱۰ء کی نماز عصر حضرت خلیفۃ المسیح نے اسی مسجد میں پڑھی اور بعد نماز عصر آپ نے روزانہ درس القرآن بھی وہیں دیا۔ساری احمدی جماعت وہاں موجود تھی۔حضرت نے درس کے وقت جو تقریر فرمائی وہ بجائے خود وہاں تشریف لے جانے اور نماز پڑھنے کے اغراض کو کھلے طور پر بیان کرتی ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اس تقریر کو شائع کردوں۔آج حضرت نے اپنی جماعت کے لئے خصوصاً حاضرین کے لئے بہت دعائیں کیں اور فرمایا کہ آج اللہ تعالیٰ نے دعا کے لئے ایسے ایسے الفاظ اور طریق بتائے ہیں کہ میں حیران تھا اور ایسی دعائیں جو میرے وہم میں بھی نہ تھیں۔یہ امر قبولیت دعا کا نشان ہے کیونکہ تمام راستبازوں کا وسیلہ ہے کہ جب دعا کے لئے الفاظ اور طریق بتائے جاویں تو وہ قبولیت دعا کا ایک زور ہوتا ہے اس لئے میں اپنی جماعت کو یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ خصوصیت کے ساتھ ان کے امام کی دعائوں کو اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں سنا۔بہرحال آپ نے نماز عصر کے بعد حسب معمول قرآن مجید کا رکوع پڑھ کر (جو سورۃ الانبیاء کا ۶رکوع تھا) ترجمہ کرنے سے پہلے فرمایا: آج یہاں ہم نے درس کیوںکیا؟ باوجودیکہ ہوا مجھے تکلیف دیتی ہے اور روشنی میں دیکھنے سے تکلیف ہوتی ہے پھر بھی یہاں آنا اور اس کے لئے اس مسجد میں کھڑا ہونا اس کے کیا اغراض ہیں؟ اس کے ظاہری محرک مولوی محمد علی صاحب ہیں۔ان کی نیت ان کے ساتھ وابستہ ہے۔مجھے ان کے دل کے حال سے آگاہی نہیں۔اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔انہوں نے اپنے حوصلہ اور