خطابات نور — Page 34
وہاں اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے کہ جو کچھ گھر والے کہیں تم ساتھ آمین کہو۔پس جو عورت <mark>بے</mark> صبری سے کلمات زبان پر لاتی ہے اگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آمین کہہ دیں اور وہ دعا منظورِ خدا ہو<mark>جا</mark>وے تو اس عورت کا کیا حال ہو۔ایسی <mark>بے</mark> صبریوں میں کوئی آنکھیں کھو بیٹھتی ہے کوئی ہاضمہ بگاڑ لیتی ہے۔کسی کا سر خراب ہو<mark>جا</mark>تا ہے۔غرض طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو<mark>جا</mark>تی ہیں۔پس بڑے صبر سے کام لو۔کاش میری بیویاں بھی میرے کہنے پر بتمامہٖ <mark>عمل</mark> <mark>کر</mark>تیں تو میں ان کو اس سے کہیں زیادہ محبت <mark>کر</mark>تا جو اب <mark>کر</mark>تا ہوں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ انسان جس دنیا اور مال و اولاد کی خاطر ایسی ایسی تکلیفیں اٹھاتا ہے۔ان میں سے کوئی ایک بھی اس کی مصائب میں حصہ نہیں لے سکتا۔ذرا پیٹ میں درد ہو تو اس کے ہٹانے والا کوئی نہیں۔غور <mark>کر</mark>و۔مجھے حضرت مرزا صاحب نہایت ہی پیارے ہیں۔میں نے ملک، وطن، نو<mark>کر</mark>یاں، زمین، ہر قسم کے ذرائع، تحصیل مال و منال ان کے حضور خاص رہنے کی خاطر چھوڑیں ہیں۔اگر کہیں <mark>جا</mark>تا بھی ہوں تو صرف ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے اور بھی یہاں تک مجھے وہ پیارے ہیں کہ اگر میرے پچاس بیٹے ہوں تو میں اس کے ایک بیٹے پر ان پچاس کو قربان <mark>کر</mark>دوں لاکن غور <mark>کر</mark>و جب مجھے کوئی دکھ، درد، تکلیف پہنچتی ہے۔وہ بھی بجز رضاء الٰہی کے ہرگز ہرگز ہرگز میرے دکھ درد کا حصہ نہیں لے سکتے۔پس اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگو اور صبر اور استقلال سے کام لو۔اس کی رضاء پر راضی ہو<mark>جا</mark>ئو اور قرآن <mark>کر</mark>یم پر <mark>عمل</mark> <mark>کر</mark>و۔اللہ تعالیٰ مجھ کو اور تم کو قرآن <mark>کر</mark>یم پر <mark>عمل</mark> <mark>کر</mark>نے کی توفیق دے اگر کوئی مجھ پر کسی ایسے کلمہ سے جس کے ساتھ اس کی دل آزاری ہوئی ہو ناراض ہوئی ہو تو وہ معاف <mark>کر</mark>ے کیونکہ میں نے صرف دردِ دل اور اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے کی خاطر سچی ہمدردی سے یہ باتیں کہی ہیں۔(الحکم ۶‘۱۳؍ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ۸تا۱۰) ٭…٭…٭