خطابات نور — Page 178
تلواریں ہوتی تھی اور کچھ بد نما ڈھالیں مگر آج دیکھو کہ وہ طرز لباس ہی نہیں رہا۔ان تلواروں اور ڈھالوں کی ضرورت ہی نہیں رہی اس اس قسم کی تو پیں اور بندوقیں آئے دن ایجاد ہو رہی ہیں کہ دشمن اپنے ہی مقام پر ہلاک کر دیا جاتا ہے تو اسے خبر ہوتی ہے۔فنونِ حرب میں اس قدر ترقی ہوئی ہے کہ کچھ کہا نہیں جاتا۔میری غرض اس وقت زمانہ کی ایجادات اور فنون کی ترقیوں پر لیکچر دینا نہیں ہے بلکہ میں اس اصل کو تمھارے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ انسان ترقی کرتا ہے اور وہ جس حالت میں ہو اس میں رہ نہیں سکتا۔غرض پھر اس حکومت کے دور دورہ میں جہاں اور ترقیاں ہوئیں لباس میں بھی ترقی ہونے لگی پھر الٹی وضع کی پگڑیوں کے بجائے پگڑیوں کا طور بدلا۔ٹوپیوں کا رواج شروع ہوا۔بال رکھتے تھے یہ سوچا کہ سر دھونے کی تکلیف ہوتی ہے۔بال چھوٹے کئے جاویں بالوں پر اثر پڑا۔پھر داڑھیوں کی صفائی شروع ہوئی۔پھر جوتے کی طرف دیکھا کہ پرانی وضع کے جوتے بھدے اور بد نما ہیں۔اس لئے ان میں ترمیم کرنی چاہیے اور اس قسم کے ہونے چاہئیں جیسا کہ پاؤں کا نمونہ نیچر نے رکھا ہے۔پس بوٹ کی طر ف توجہ ہوئی اور فرغل چغہ کی بجائے کوٹ نکلے یہاں تک تو خیر تھی۔لباس سے آگے اثر شروع ہوا اور ایک تہ بند گزار کو نماز بھی چھوڑ نی پڑی کیونکہ نماز پڑھنے میں ایک قیمتی پوشاک خراب ہوتی ہے۔وضو کرنے سے کالر اور نیکٹائی وغیرہ کا ستیاناس ہوتا ہے اور کفیں خراب ہوجاتی ہیں۔یہ انسان کی ترقی کی ایک بات ہے اور یہی معنے ہیں میری نظر میں مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ (سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشھرۃ) موجود ہ زمانہ میں بھی یہی اثر ہوا ہے قوم کی حالت اسی طرح بگڑی ہے۔بعض کو فلسفہ نے تباہ کر دیا ہے بعض اور مشکلات اور حالتوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔میری طبیعت فلسفہ کو پسندکرتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کااحسان ہے کہ اس نے قرآن جیسا مجھے فلسفہ دیا ہے اور پھر ایک اپنا امام مجھے عطا کیا ہے کہ جس کی قوت قدسی اور تاثیر صحبت سے یہ فلسفہ مجھے بہت ہی عزیز اور کامل تر فلسفہ ملا۔میں نے دیکھا ہے کہ آج کل کے نوجوان جو انگریزی فلسفہ کی چند کتابیں پڑھتے ہیں جس پر بجائے خود بیسیوں نہیں سینکڑوں اعتراض ہیں۔بڑے فخر سے مِلْ، سپنسر کے نام لیتے ہیں اور ناز کرتے ہیں کہ پلیٹو نے فلسفہ میں یہ لکھا ہے اور فیثاغورث نے یہ کہا ہے ان باتوں نے ان پر کچھ ایسا اثر کیا ہے کہ اب وہ