خطابات نور — Page 179
مذہب پر ہنسی کرتے ہیں اور اس کو ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں۔مذہب کی حالت تو یوں بد تر ہوئی۔پھر سوسائٹی کی طرف دیکھو۔ادنیٰ سے اعلیٰ تک کو میں نے دیکھا ہے جب ان سے کوئی بات پوچھو تو ا ن کے نزدیک گویا حرام ہے کسی مسلمان کا نام لینا ،وہ سوسائٹی کے اصولوں کو بیان کرتے ہوئے بڑے خوش ہوتے ہیں اور انگریزوں کے نام لیتے ہیں اور ان کی کتابوں کے حوالے دینے لگتے ہیں۔مختصر یہ کہ دنیا الگ معبود ہو رہی ہے حکومت کی طرف سے جو اثر ہو رہا ہے وہ ظاہر ہے۔بچے یوں مبتلا ہیں۔مدارس میں مذہبی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں اور مسلمان کر نہیں سکتے۔گورنمنٹ برداشت نہیں کر سکتی کہ ہر مذہب کے معلّم مدرسوں میں اپنی گرہ سے قائم کرے کیونکہ مذہبی تعلیم دینا خود مسلمانوں کا اپنا فرض ہے اور اصل تو یہ ہے کہ خود مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ جہاں جہاں انہوں نے بظاہر دینی تعلیم کا انتظام کیا بھی ہے وہاں بھی یہ حالت ہے کہ دینی تعلیم اصل مقصد نہیں بلکہ دنیوی علوم کے ساتھ برائے نام ایسا رکھا گیا ہے۔میں اپنے یہاں دیکھتا ہوں دوسرے مدرسوں کی نسبت یہاں دینیات کی طرف توجہ ہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ لڑکے مسجد میں بھی انگریزی کتابوں کے ہجے یاد کرتے رہتے ہیں مجھے تعجب ہی ہوا ہے۔عربی اورقرآن شریف کی طرف وہ توجہ نہیں پاتا ہوں جو انگریزی اور اس کے لوازمات کی طرف ہے۔غفلت جس قدر مسلمانوں پر سایہ کیے ہوئے ہے اس کا تو ذکر ہی نہ پوچھو۔اعمال میں یہ حالت ہے کہ گھر میں تو إِنَّا أَعْطَیْنَابھی گراں گزرتی ہے لیکن اگر امام ہوں تو پھر سورہ بقرہ بھی کافی نہیں۔حدود اللہ میں یہ غفلت ہے کہ اپنی ہی سستی اور کمزوری سے تمام حدود اٹھ گئی ہیں۔کسی کو جھوٹ یا چوری یا دوسری خلاف ورزیوں کی سزا نہیں ملتی ہے۔ان باتوں کا اگر ذکر نہ بھی کریں اور مختصر الفاظ میں کہیں تو یہ ہے کہ مذہب سے ناواقفی ہو گئی ہے۔مہذب جماعت نے مذہب کا ذکر ہی خلاف تہذیب سمجھ رکھا ہے۔مذہبی مباحثوں کو وہ اس قدر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کی کچھ حد ہی نہیں ان کی مجلس میں اگر اسلام یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن شریف کی نسبت سخت الفاظ میں حملے کئے جائیں تو ان کو سن کر خاموش ہو رہنا اور