خطابات نور — Page 177
ہدایت کی اشاعت کرے۔جب یہ ضرورت ثابت ہے تو پھر اس امر کا پتا لگانا کچھ بھی مشکل نہیں ہو سکتا کہ وہ مزکّی آیا ہے یا نہیں ؟ میں کہتا ہوں کہ وہ مزکّیآ گیا اب اس کی صداقت کا جانچنا باقی رہتا ہے اس کے لئے قرآن شریف اور منہاج نبوۃ کامل معیا رہے اس سے دیکھ لو اس کی سچائی خود بخود کھل جاوے گی اور عقلی دلائل ، نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ اور تائیدات سے اسے شناخت کر لو۔کسوف وخسوف کا کس قدر عظیم الشان نشان موجود تھا مگر دیکھنے والوں میں سے سب نے فائدہ اٹھایا ؟ ہر گز نہیں۔اس کے پورا نہ ہونے سے پہلے تو اسے صحیح قرار دیتے تھے مگر جب وہ پورا ہوگیا تو روایت کی صحت میں شبہ کرنا شروع کر دیا۔حقیقت میں جب انسان تعصب اور ضد سے کام لیتا ہے اور ایک بات ماننی نہیں چاہتا تو اس کی بہت سی توجیہیں نکالتا ہے اور اپنے خیال کے موافق عذرات تراش لیتا ہے۔چونکہ انسان کی قوتیں دن بدن آگے بڑھتی ہیں اس لئے وہ خیالات اور ترقی کرتے جاتے ہیں۔دیکھو میں کل جس عمر کا تھا آج اس سے ایک دن بڑا ہوں اسی طرح دیکھ لو پچھلے حِصّہ زندگانی پر جس قدرغور کرو گے اور جتنا پیچھے جاؤ گے اسی قدر تمھیں نمایاں فرق نظر آئے گا کہ کمزوری بڑھتی گئی ہے دیکھو پہلے بول نہ سکتا تھا پھر بولنے لگا اور اپنی مادری زبان میں کلام کرنے لگا۔پھر یہاں تک ترقی کی کہ اردو بولنے لگا اور پھر یَوْماً فَیَوْماً اس میں بھی ترقی کی یہاں تک کہ اب اپنی زبان میں مسلسل دو چار فقرے بھی ادا نہیں کر سکتا۔ایک بار حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے پنجابی زبان میں وعظ کرنے کا حکم دیا میں دو چار فقروں کے بعد ہی پھر اردو بولنے لگا۔اسی طرح دیکھ لو کہ ہر صورت میں انسان ترقی کرتا ہے بچپن کے زمانہ میں جو کپڑے کام آتے تھے اور خوبصورت اور ٹھیک موزوں تھے آج میں ان کو نہیں پہن سکتا۔یہی نہیں کہ وہ میرے بدن پر نہیں آسکیں گے بلکہ بہت ہی بُرے ہوں گے۔جہاں تک غور کرتے جاؤ انسان ترقی کرتا جاتا ہے اسی اصول کے موافق وہ نیکیوں اور بدیوں میں بھی ترقی کرتا ہے اور رسم ورواج لباس وغیرہ امور میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ مردوں کے پاجامے گلبدن کے ہوتے تھے اور وہ دوہری پگڑیاں پہنا کرتے تھے اور بھدی سی