خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 151 of 660

خطابات نور — Page 151

ان کی نسبت قرآن ہی نے خود شہادت دی ہے(التوبۃ:۸ ) ان میں اکثر لوگ فاسق تھے اور یہاں تک فسق وفجور نے ترقی کی ہوئی تھی کہ (المآئدۃ:۶۱) یہ اس وقت کے لکھے پڑھے علماء سجادہ نشین خدا کی کتاب مقدس کے وارث لوگوں کا نقشہ ہے کہ وہ ایسے ذلیل وخوار ہیں جیسے بندر وہ ایسے شہوت پرست اور بے حیا ہیں جیسے خنزیر۔اس سے اندازہ کرو ان لوگوں کا جو پڑھے لکھے نہ تھے جو کتاب مقدس کے وارث نہ تھے جو موسیٰ کی گدی پر نہ بیٹھے ہوئے تھے پھر یہ تو ان کے اخلاق بد‘ عادات بد یا عزّت وذ ّلت کی حالت کا نقشہ ہے اگرچہ ایک دانشمنداخلاقی حالت اور عُرفی حالت کو ہی دیکھ کر روحانی حالت کا پتا لگا سکتا ہے مگر خود خدا تعا لیٰ نے بھی بتا دیا ہے کہ روحانی حالت بھی ایسی خراب ہو چکی تھی کہ وہ عبد الطاغوت بن گئے تھے یعنی حدودِ الٰہی کے توڑنے والوں کے عبد بنے ہوئے تھے ان کے معبود طاغوت تھے اب خیال کرو کہ اخلاق پر وہ اثر روح پر یہ صدمہ عزّت کی وہ حالت!یہ ہے وہ قوم جو (المآئدۃ:۱۹)کہنے والی تھی اس چھوٹے درجہ کی مخلوق کا خود قیاس کر لو۔یہ نقشہ کافی ہے عقائد کے سمجھنے کے لئے یہ کافی ہے عزّت وآبروکے سمجھنے کے لئے کہ جو بندر کی عزّت ہوتی ہے۔پھر یہ نقشہ کافی ہے اخلاق کے معلوم کرنے کے لیے جو خنزیر کے ہوتے ہیں کہ وہ سارا بے حیائی اور شہوت کا پتلا ہوتا ہے۔جب ان لوگوں کا حال میں نے سنایا جو کہتے اور ابراہیم کے فرزند کہلاتے تھے تو عیسائیوں پر اسی کا قیاس کر لو۔ان کے پاس تو کوئی کتاب ہی نہ رہی تھی اور کفّارہ کے اعتقاد نے ان کو پوری آزادی اور اباحت سکھادی تھی اور عربوں کا حال تو ان سب سے بدتر ہوگا جن کے پاس آج تک کتاب اللہ پہنچی ہی نہ تھی اور پھر یہ خصوصیت سے عرب ہی کا حال نہ تھا ایران میں آتش پرستی ہوتی تھی۔سچے خدا کو چھوڑ دیا ہوا تھا اور اہرمن اور یزداں دو جُدا جُدا خدا مانے گئے تھے۔ہندوستان کی حالت اس سے بھی بدتر تھی جہاں پتھروں ،درختوں تک کی پوجا اور پرستش سے تسلی نہ پا کر آخر عورتوں اور مردوں کے شہوانی قویٰ تک کی پرستش جاری ہو چکی تھی۔غرض جس طرف نظر اٹھا کر دیکھو جدھر نگاہ دوڑاؤ۔دنیا کیا بلحاظ اخلاق فاضلہ کیا بلحاظ عبادات اور