خطابات نور — Page 150
علوم کی ترقی اور سائنس کی ترقی قرآن شریف یا اسلام کے مخالف ہے۔سچے علوم ہوں وہ جس قدر ترقی کریں گے قرآن شریف کی حمد اور تعریف اس قدر زیادہ ہوگی۔اس سورہ شریف کو ان پاک الفاظ سے شروع کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنا ایک انعام پیش کرتا ہے۔ (الجمعۃ:۳) اس اللہ نے جس کی تسبیح زمین و آسمان کے ذرا ت اور اجرام کرتے ہیں اور ہر شے جو ان میں ہے وہ اللہ جو اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ہے اُمّیوں میں (عربوںمیں)ان میں ہی کا ایک رسول ان میں بھیجا جو ان پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتا ہے اور ان کو پاک صاف کرتا ہے اور ان کو الکتاب اور الحکمۃ سکھاتا ہے اور اگرچہ وہ اس رسول کی بعثت سے پہلے کھلی کھلی اور خدا سے قطع تعلق کر دینے والی گمراہی میں تھے۔۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکّہ والوں میں اللہ تعالیٰ کی عزّت اور حمد کا ایک بیّن ثبوت ہے کیونکہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اہلِ دنیا اس رشتہ سے جو انسان کو اپنے خالق کے ساتھ رکھنا ضروری ہے بالکل بے خبر اور نا آشنا تھے۔ہزاروں ہزار مشکلات اس رشتہ کے سمجھنے ہی میں پیدا ہو گئی تھیں اس کا قائم کرنا او رقائم رکھنا تو اور بھی مشکل تر ہو گیا تھا۔کتبِ الٰہیہ اور صُحفِ انبیا علیہم السلام میں تاویلات باطلہ نے اصل عقائد کی جگہ لے لی تھی اور پھر ان کی خلاف ورزی مقدرت سے باہر تھی دنیا پر ستی بہت غالب ہوئی ہوئی تھی ان کے بڑے بڑے سجادہ نشین احبار اور رہبانوں کو اپنی گدیاں چھوڑنا محال نظر آتا تھا ، خد اتعالیٰ نے بڑے لوگوں کا ذکر کیا کیونکہ اس سے چھوٹوں کا خود اندازہ ہو سکتا تھا اگر ہم ایک نمبر دار کی حالت بیان کریں کہ ایک قحط میں اس پر فاقہ کشی کی مصیبت ہے تو اس سے چھوٹے درجہ کے زمیندار کا حال خود بخود معلوم ہو جاتا ہے۔قرآن شریف نے نہایت جامع الفاظ میں فرما دیا ہے کہ (الرّوم:۴۲)جنگلوں اور سمندروں میں غرض ہر جگہ تری وخشکی پر فسا د نمودار ہو چکا ہے وہ جو اپنے آپ کو ابراہیم کے فرزند کہلاتے تھے