خطابات نور — Page 152
معاملات ہر طرح ایک خطرناک تاریکی میں مبتلا تھی اور دنیا کی یہ حالت بالطبع چاہتی تھی کہ ع مردے ازغیب بروں ا ٓید وکارے بکند چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ایک رسول کو عربوں میں مبعوث کیا جیسا کہ فرمایا یہ رسول صرف عربوں ہی کے لئے نہ تھا باوصفیکہ عربوں میں مبعوث ہوا بلکہ اس کی دعوت عام اور کل دنیا کے لئے تھی جیسا کہ اس نے دنیا کو مخاطب کر کے سنایا۔(الأَعراف:۱۵۹) اے لوگو !میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں اور پھر ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (الأنبیآء :۱۰۸) یعنی ہم نے تم کو تمام عالموں پر رحمت کے لئے بھیجا ہے اسی لئے وہ شہر جہاں سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور پایا وہ اُمُّ القریٰ ٹھہر ااور وہ کتاب مبین جس کی شان ہے(البقرۃ:۳) وہ اُم الکتب کہلائی اور وہ لسان جس میں اُم الکتب اتری وہ اُم الالسنہ ٹھہری۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل تھا جو آدم زاد پر ہوا اور بالخصوص عربوں پر اس رسول نے آکر کیا؟ پہلا کام یہ کیا کہ ان پر خدا کی آیات پڑھ دیں پھر نرے پڑھ دینے سے تو کچھ نہیں ہو سکتا اس لئے دوسرا کام یہ کیا ان کو پاک صاف کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر عظیم شان اور بلند مرتبہ ہے دوسرے کسی نبی کی بابت یہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی قوتِ قدسی اور قوتِ تاثیر کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے عربوں اور دوسری قوموں پر کیا اثر ڈالا۔عرب کی تاریخ سے جو لوگ واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر اس کی کایا پلٹ دی ان کے اخلاق، عادات اور ایمان میں ایسی تبدیلی کی جو دنیا کے کسی مصلح اور ریفارمر کی قوم میں نظر نہیں آتی۔جو شخص اس ایک ہی امر پر غور کرے گاتو اسے بغیر کسی چون وچرا کے ماننا پڑے گاکہ ہمارے سیّد ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوت قدسی اور