خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 6 of 660

خطابات نور — Page 6

میں یہ ہوگا کہ تم دین اور دنیا میں فائز المرام ہو جائو گے۔پس اس دعوے کو اللہ تعالیٰ ایک پیشگوئی کے رنگ میں دلیل دے کر ثابت کرتا ہے چنانچہ فرمایا:  (النور :۵۶) یعنی خدا تعالی نے ان لوگوں میں سے جو تم میں سے ایمان لائے (یعنی لوازم ایمان حقیقی ان میں پائے جاتے ہیں) اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں۔(یعنی عملی طور پر بھی ایمان کا واقعی نتیجہ اپنی زبان اور اعضاء اور اپنے اموال پر دکھاتے ہیں) ان سے اللہ تعالیٰ نے حتمی وعدہ کر لیا ہے کہ یقینا یقینا ان کو ضرور اسی زمین پر خلیفہ بنا دے گا جیسا کہ ان لوگوں کو بنایا جو تم سے پہلے تھے اور ان کا وہ دین جو ان کے لئے پسند کر چکا ہے۔اس کے کر دکھانے اور پھیلانے کی ان کو قوت عطا کرے گا اور خوف کے بعد ان کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔وہ مجھے ہی پوجیں گے۔(یعنی میری ہی اطاعت اور عبادت کریں گے) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گے۔جو (یعنی ان نشانات کو دیکھ کر) اس کے بعد کفران کریں گے وہ لوگ فاسق ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک عظیم الشان اور تسلی بخش وعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے جس کی تشریح اور تفسیر ابھی تھوڑی دور چل کر کی جاوے گی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں تشریف رکھتے تھے اس وقت حضور کے اعداء کفار کا خیال تھا کہ ہم اس شخص کا نام ونشان تک مٹا دیں گے۔چونکہ وہ ابتدائے اسلام کا زمانہ تھا اور دنیا کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عام کامیابی بلکہ وجود تک کی بھی خبر نہ تھی ایسے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے بڑے وعدے فرمائے تھے جو قرآن کریم میں مختلف مقامات پر مختلف طرز میں بیان ہوئے ہیں۔کفار اور اعداء تو یہ خیال کرتے تھے کہ ہم اس مدعی نبوت کو گم کر دیں گے مگر وہ نادان نصرت الٰہی سے ناواقف اور سنت اللہ سے نابلد مطلق تھے ان کی ایسی باتوں اور دعاوی کو سن کر ارشاد ہوتا تھا۔