خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 5 of 660

خطابات نور — Page 5

کی اطاعت کیونکر ہو سکتی۔اس کی سبیل اور صورت یہ ہے کہ ۔اطاعت الرسول ہی اطاعت اللہ ہوتی ہے کیونکہ رسول اللہ تو گویا مرضات اللہ کے دیکھنے اور معلوم کرنے کے لئے ایک آئینہ صافی ہوتا ہے اس کی زندگی اس کا چال چلن اس کی نشست برخاست۔غرض اس کی ہر بات رضائے الٰہی اور اطاعت الٰہی کا نمونہ ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے  کے بعد کہہ کر اس مشکل کو حل کر دیا جو اطاعت اللہ کے سمجھنے اور سوچنے میں پیدا ہو سکتی تھی اور اس کی صراحت اور توضیح اور بھی ہو جاتی ہے جب ہم یہ پڑھتے ہیں  اس حصہ ٔ آیت میں  میں ضمیر جو رسول کی طرف راجع ہے بتلا رہی ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس اطاعت کو جو ابتدائے آیت میں اللہ اور رسول کی اطاعت میں منقسم تھی یہاں صرف رسول ہی کی اطاعت سے مخصوص کر دیا ہے اور پھر جب ہم  والے حصہ پر غور کرتے ہیں تو یہ راز اور بھی کمال صفائی سے حل ہو جاتا ہے غرض یہ ہے کہ اطاعت اللہ وہی ہے جو اطاعت رسول ہے۔قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر اس عقدہ کو صاف الفاظ میں حل کیا گیا ہے جیسے فرمایا (اٰل عمران :۳۲)۔یعنی اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے محب اور عزیز بن جائو تو اس کے لئے تدبیر یہ ہے کہ میری اطاعت کرو اور دوسرے مقام پر فرمایا: (النساء :۸۱) جس نے رسول اللہ کی اطاعت کی اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی۔فی الجملہ اس آیت میں حصول کامیابی کے لئے ایک گر بتلایا ہے جس کا نام ہے اطاعت الرسول جو اپنے اصل معنوں میں اطاعت اللہ ہی ہے کیونکہ رسول مرضات اللہ کا مظہر ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کی َکل ہوتا ہے اس کا اپنا ارادہ کچھ ہوتا ہی نہیں۔چنانچہ فرمایا ہے کہ (النجم :۴)۔اللہ تعالیٰ یہ طریق کامیابی بتلا کر ایک پیشگوئی کے ذریعے سے اس اصول کی صداقت ظاہر کرتا ہے کیونکہمیں تو ایک دعویٰ کیا گیا ہے کہ فائدہ اس اطاعت الرسول