خطابات نور — Page 540
اب تم سوچو حضرت صاحبؑ کیوں آئے تھے؟ کیا غرض تھی کیا کام تھا کیا ضرورت پیش آئی تھی؟ بہت سے لوگ یہ کہہ دیں گے۔وفات مسیح کا مسئلہ حل کر دیا۔وفات مسیح کے سارے صحابہ سارے آئمہ قائل ہیں۔بیشک بطور غلطی کے یہ مسئلہ بھی تھا۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر فوت ہوئے ایک مسیح علیہ السلام بھی فوت ہو گئے تو کیا ہوا۔حضرت صاحب ایک خاص غرض کے لئے آئے تھے۔وہ غرض دین کو دنیا پر مقدم کرنا تھی۔لوگوں نے دنیا کو دین پر مقدم کیا ہے اور ایسا مقدم کیا ہے کہ قرآن شریف کو کچہریوں میں جھوٹی قسمیں کھانے کا آلہ بنایا گیا ہے۔دھوکا دینے کے لئے قرآن شریف کو ذریعہ بنایا گیا ہے۔ایک شخص کی کوہاٹ میں بدلی ہوئی۔بڑا موٹا قرآن شریف اور ایک بڑی سی رحل اس نے خریدی۔لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو قرآن کریم سے بڑی محبت ہے۔کہنے لگا کہ سفر میں تو یہ میری گاڑی کا پائدان ہو گا اور وہاں جا کر رحل پر رکھ دوں گا سرحدی لوگ مجھ کو بڑا دیندار سمجھیں گے۔میں قرآن شریف کو مانتا نہیں ہوں۔اگر خشیۃ اللّٰہ ہو، اگر تقویٰ ہو، اگر انسان کا خدا تعالیٰ پر ایمان ہو، اگر مرنے کا اس کو خیال ہو تو یہ جھوٹ، یہ دغا، یہ فریب، یہ جعلسازیاں، یہ بدمعاشیاں، یہ لین دین میں بدمعاملگی کیوں ہو۔تم خوب یاد رکھو کہ صرف منہ سے کہہ دینے سے آدمی مسلمان نہیں بنتا،منہ سے مسلمان تو منافق بھی بن سکتا ہے۔تقویٰ اور عمل سے آدمی مومن بن سکتا ہے۔اگر دنیا کو دین پر مقدم رکھتے ہو۔اگر اپنے اغراض کو پورا کرنے کے لئے دغا، فریب اور بدمعاشیوں کو روا رکھتے ہو تو یہ کوئی عقلمندی نہیں۔ہمارے بزرگوں کے مکانات عرب میں بھی ہوں گے کیونکہ وہ عرب سے آئے تھے پھر انہوں نے بلخ میں کابل میں مکانات بنائے۔پشاور اور یوسف زئی کے علاقہ میں وہ رہے پھر لاہور میں قصور میں مکانات بنائے۔پھر کھنی وال (علاقہ بہاولپور) اور میانوالی سکونت اختیار کی۔بھیرہ میں خود میں نے اپنے ہاتھ سے مکانات بنائے۔ان سب مقامات میں ہمارے مکانات تھے پھر یہاں (قادیان) بھی میں نے مکانات بنائے پھر کیا ان مکانوں کو میں سر پر اٹھا کر لے جائوں گا؟ مومن دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے دنیا کو مقدم نہیں کرتا۔یہ معاہدہ کرنا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا اور جب معاملہ پڑے یا کوئی مقدمہ آجائے تو دنیا کو مقدم کر لیا۔بھلا یہ معاہدہ ہی کیا ہوا؟