خطابات نور — Page 541
قرآن شریف میں ورثہ کا بیان فرماتے ہوئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے (النساء :۱۴، ۱۵) یہ میری حد بندی ہے جو میری حد بندی پر نہ چلے گا میں اس کو ذلیل کر دوں گا۔اب اپنے اپنے گائوں کے حالات پر غور کرو۔عورتوں کو حقوق کس قدر دئیے جاتے ہیں۔تم لوگ اکثر عورتوں کو حصہ نہیں دیتے۔عورت کی بھلائی کا قانون سوائے قرآن کریم کے اور کہیں دنیا میں ہے ہی نہیں۔میں نے بڑے بڑے واقف کاروں سے پوچھا ہے لنڈن میں بھی عورتوں کی بھلائی کا کوئی قانون نہیں نکلا۔ایک خاوند نہ چھوڑنا چاہے، نہ رکھنا چاہے اب عورت مجبور ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہ نان ونفقہ کی ڈگری حاصل کرے پھر اس ڈگری کا اجرا کرانا دشوار۔میں نے بڑی کوشش اور تلاش کے بعد بھی کوئی قانون ایسا نہیں دیکھا جس میں عورتوں کے حقوق کا لحاظ کیا گیا ہو۔قرآن کے قاعدے خود مسلمانوں نے ہی چھوڑ دئیے ہیں۔(البقرۃ :۲۲۹) عورت کی بہتری کے سامان اسی قدر ہیں جس قدر تمہارے۔ایک عورت مجھ سے کہنے لگی آپ کے قاعدے کے موافق آدھا مال خاوند کا ہے اور آدھا بیوی کا مگر اب تو تمام گھر کی مالک میں ہی ہوں۔میں نے کہا کبھی تمہارے میاں تم پر ناراض بھی ہوئے ہیں۔کہا ہاں ایک مرتبہ ناراض ہوئے تھے۔چوٹی پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیا تھا۔میں نے کہا کبھی تم نے بھی اس کو گھر سے نکال دیا ہے یا تم صرف حفاظت ہی کرتی ہو اور دخل کچھ بھی نہیں۔کہنے لگی ہاں اب سمجھ گئی ہوں۔ہمارے ملک والوں نے عورت کا نام جوتی رکھا ہے حق وراثت میں کوئی حصہ اس کے لئے قائم نہیں۔ایک عورت نے مجھ کو خط لکھا کہ مہدی بھی آیا، مسیح بھی آیا بتائو ہم کیوں مانیں اس نے ہمارا کیا کام کیا؟ میں نے اس کو لکھا کہ مسیح علیہ السلام قرآن کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔اس نے لکھا کہ میرا خاوند قسم کھاتا ہے کہ میں تم کو کبھی سکھ کی حالت میں نہ دیکھوں گا۔میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا آپ ہنس پڑے اور کہا کہ لوگ قرآن مانیں۔میں نے اس عورت کو لکھ دیا کہ تم چالیس دن