خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 539 of 660

خطابات نور — Page 539

میں رسہ کھینچنے کا ایک انتظام کیا ہے۔یہ رسہ میری سمجھ میں اس لئے بنایا گیا ہے کہ اس آیت کی طرف توجہ ہو۔یہ جناب الٰہی کا رسہ قرآن کریم آگیا۔ایک طرف تمام دشمنان خدا اور اعداء نبی کریم اس کو کھینچنا چاہتے ہیں کوئی تاریخی طور پر کوئی سائنس اور مشاہدہ کے ذریعہ سے الزام لگانا چاہتا ہے کوئی اس کوشش میں ہے کہ اس کے اسباب کے نتائج کا خلاف کیا جائے۔خدا تعالیٰ اور اس کے نبیوں کے منکر ایک طرف کھینچتے ہیں۔تمام مسلمانوں کو حکم ہے کہ تم ایک دم اپنا سارا زور لگائو کیونکہ اس میں تمہارا بچائو ہے۔اس میں تو اتفاق کر لو تفرقے چھوڑ دو۔آپس میں محبت بڑھائو۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان محبت ڈالی ہے۔اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل ہوا ہے۔تم لوگ کس طرح آپس میں عداوت رکھتے تھے۔جناب الٰہی نے تم میں الفتیں پیدا کر دی ہیں۔اندرونی مذاہب میں شیعہ تمام اصحاب کرام کو گالیاں دیتے ہیں اور خوارج اہل بیت کو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہارے درمیان الفتیں پیدا کر دیں ہیں تو کم سے کم سورئہ آل عمران کے زمانہ میں جس قدر صحابہ تھے وہ تو سب ضرور آپس میں محبت رکھتے تھے۔جو اس کے خلاف کہتا ہے وہ قرآن کریم کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے اَلَّفَ کے بعد اِخْوَانًا فرمایا ہے کیونکہ کبھی کبھی بھائیوں میں کدورتیں بھی ہو جاتی ہیں۔اس جماعت صحابہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت معزز کیا ہے۔اگر ان میں اختلاف ہوتا تو تمام بلاد کے فتوحات کس طرح ہوتے۔اگر وہ ایک نہ ہوتے تو لا الٰہ الا اللّٰہ کے خلاف ہوتا۔میں نے اپنے ایک دوست سے کہا بھلا تم کلینی تو پڑھ کر دیکھو۔کہا اپنی تردید کے لئے یہی کافی ہے۔خدا تعالیٰ کے اس فضل کو یاد کرو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں کون کون لوگ تھے حبشیوں میں بلال، رومیوں میں صہیب، حسن بصری جیسے بصرہ کے۔یہ اشارہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کے لئے ہم نے عرب وعجم کی مخلوق ایک کر دی ہے۔تم ایک آگ کے گڑھے پر تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ باتیں اس لئے سنائی ہیں کہ تم ہدایت پائو۔اب بھی دیکھو لوگ باہم کس قدر نقار میں تھے۔مقلد، غیر مقلد، شیعہ، خارجی، ایک گائوں قادیان میں ہم کو اللہ تعالیٰ نے جمع کر دیا۔نمونے دکھا دئیے۔اب بھی وہی بن سکتے ہو جو پہلے صحابہ کرام بنے۔یہ باتیں کیوں سناتا ہے؟ (اٰل عمران :۱۰۴)۔