خطابات نور — Page 504
یہ دونوں باتیں بنادیتی ہیں۔آج کل عام مسلمانوں کی حالت دیکھی نہیں جاتی مگر ان کی حالت اپنی کرتوت کا نتیجہ ہے (الشوریٰ :۳۱) مسلمانوں کی کیسی گت بن رہی ہے۔سارا جہاں بحیرہ روم میں پھرتا ہے مگر رومیوں کے ایک سپاہی کو بھی اجازت نہیں۔ابھی ایک نے جانا تھا لوگوں نے اس کے پیچھے پولیس لگادی۔کچھ پولیس واقف نہیں ہوتی اس لئے اس نے ایک جگہ آکر فرانسیسی لباس پہن لیا اور نوکر کو ترکی لباس پہنا دیا۔جب ہوٹل میں آئے تو اسے فرانسیسی سمجھ کر چھوڑ دیا اور نوکر کو پکڑ کرلے گئے۔خود تمہیں معلوم ہے کہ حسین کامی کے اشتہار میں حضرت صاحبؑ نے لکھا تھا کہ حرمین ان کی حفاظت کرتے ہیں یہ حرمین کے محافظ کیا ہوں گے۔جب تک اسلام کے نام لیوا رہے کچھ بنا ہوا تھا۔مگر جب دستوری حکومت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ اسلامی حکومت نام نہیں رکھتے تاکہ یورپ شورش نہ کرے۔اللہ تعالیٰ نے (الرعد :۴۲) کا نظارہ دکھا دیا اور یورپ نے دبوچ لیا۔اب جوتے کھا کر عربی تعلیم کو جاری کیا۔اب امید ہے کہ تم نے سمجھ لیا ہوگا کہ مغضوب کون ہوتا ہے؟ عداوت کے لئے یوں تو انسان کوئی وجہ تراش لیتا مگر وہ جھوٹی ہی ہوتی ہے۔اس لئے بیجا عداوت سے بچو اور حلم پر عمل کرو۔ضال کون ہوتے ہیں؟ ضال کون ہوتے ہیں؟ جو علوم الٰہیہ سے بالکل بے خبر ہوں۔بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ وہ علوم الٰہیہ کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔میں نے ایک لڑکے کودیکھا کہ نماز کے وقت اس نے اپنے کورس کی کتاب کھول کر سامنے رکھ لی۔نماز تو اس نے پڑھنی تھی کیونکہ مجبور تھا مگر میں نے دیکھا کہ وہ رکوع سجود میں کتاب ہی پڑھتا رہا۔میں نے کہا کہ کیا آج ہی ڈپٹی کمشنر بننا تھا۔کہا کہ کچھ تو بنوں گا ہی اسی واسطے محنت کرتا ہوں۔میں تمہیں کیا سنائوں آخر وہ محکمہ وٹرنری میں کمپونڈر ہوا۔مجھے ایک مرتبہ مل گیا تو میں نے پوچھا کہ کیا وہ بات یاد ہے کہنے لگا ہاں خوب یاد ہے۔پھر میں نے کہا وہ بنی تو نہیں۔اس نے کہا جو روپیہ جمع کرتا ہوں جب سو کے قریب ہوجاتا ہے تو کوئی افسر آجاتا ہے اور وہ لے جاتا ہے وہ افسر ہوتا ہے میں اس سے مانگ نہیں سکتا۔جب اس کی تبدیلی ہوتی ہے تو کسی کی چارپائی اور کسی کی کوئی اور ایسی