خطابات نور — Page 503
کاموں میں ایسا طرزعمل اختیار کرتے ہیں کہ گویا دہریہ ہیں۔میں نے بہت سے جیل خانے اس غرض سے دیکھے ہیں کہ غیر قوموں کی تعداد زیادہ ہے یا اپنی قوم کی تو مسلمانوں کی تعداد زیادہ پائی۔اپنی قوم اس لئے کہا کہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کہتے ہیں۔پھر ہماری قوم میں کیوں داخل نہیں (ایڈیٹر۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس شعر کی تشریح ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگہدار کاخر کنند دعویٔ حُبِّ پیمبرم) غرض کون ہوتے ہیں جو بے جا عداوت کریں یا علم رکھ کر عمل نہ کریں۔اب تم خود سوچ لو کہ کیا تمہیں خدا تعالیٰ کے کسی مامور و مرسل سے محبت ہے یا بے جا عداوت اور اس کے بعد اپنے لئے آپ فیصلہ کرلو۔ہم کسی کلمہ گو کو کافر کہنے کی ابتدا اور جرأت نہیں کرتے مگر تم آپ اپنے حال پر نظر کرو اور دیکھو کہ مامور کے انکار سے تم کیا بن گئے ہو؟ اور اگر تم نے کسی مامور کا انکار نہیں کیا بلکہ مرزا صاحبؑ کو مان کر اس کی جماعت میں داخل ہو تو پھر دیکھو کہ تمہارے گھر کے جو لوگ عاقل بالغ ہیں کیا ان کا عمل درآمد انہیں ہدایتوں پر ہے جو مرزا صاحبؑ نے دی ہیں۔مرزا صاحبؑ نے جو اسی طرح کے رسالے لکھے ہیں تم نے عمل درآمد کرکے دکھادیا۔کیا تمہارے اشغال ان لوگوں کے سے تو نہیں جو سلسلہ میں داخل نہیں؟ کیا تمہارے حسدوکینہ اور بغض اُسی قسم کے تو نہیں؟میں تو جب رات کو سوتا ہوں تو کسی کا بغض اور کینہ لے کر نہیں سوتا۔دنیا سے بالکل الگ ہوکر سوتا ہوں۔اس وقت بی بی، اولاد ،یاروبیگانہ کسی کی کوئی فہرست نہیں ہوتی۔بعض وقت بی بی کہتی ہے کیا کرتے ہو تم تو کسی آدمی سے ملنا ہی نہیں چاہتے۔میں کہہ دیتا ہوں کہ پھر جئیں گے تو ملاقات کرلیں گے‘ اب تو مرنے کو ہیں۔تم اس طرح کا حال بنائو اور حضرت صاحب کی کتابوں کے ماتحت اپنا چال چلن بنائو۔جب تم ایسے ہوجائو گے تو تمہارے سارے کاموں کا ذمہ وار اللہ تعالیٰ ہوگا۔پس اب تم سمجھ گئے کہ کس کو کہتے ہیں۔بیجا عداوت اور سچائی کا علم ہو اور عمل نہ ہو