خطابات نور — Page 505
ہی چیز مل جاتی ہے اور میں ویسا ہی رہ جاتا ہوں۔میں نے کہا تم روپیہ دینا چھوڑ دو۔کہنے لگا شرم آجاتی ہے۔میں نے کہا شرم نہیں اس کاسرّ اور ہے تم جو دولت کے پیچھے ایسے پڑے کہ نماز چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ جب تک ہم نہ دیں کچھ نہ ہوگا۔پس علوم الٰہیہ سے بے خبری ضال کا نشان ہے۔بعض ہم کو بھی پھر احمق سمجھتے ہیں جب انہیں ایسی نصیحت کرتے ہیں۔ہمارے گول کمرے میں ایک مرتبہ کچھ انگریزی خوان جمع تھے اوپر میری چارپائی تھی رات کو بڑی دیر تک ٹریں مارتے رہے میں نے تھک کر آخر وہاں سے چارپائی اٹھوالی۔جب رات کو اتنی دیر تک جاگتے رہیں تو فجر کی نماز کے لئے پھر کس نے اٹھنا ہے۔اس واسطے صبح کو اٹھنے کی میعاد آٹھ، نو، دس بجے رکھی ہے۔ایسی عادتوں کو چھوڑ دو۔پس ایسے لوگوں کو سچے علوم سے کب بہرہ مل سکتا ہے اور آج کل ایک اور مصیبت ہے۔کچھ تو لوگوں کو علوم الٰہیہ کی طرف توجہ نہیں اور کچھ جو پڑھے لکھے ہیں ان کی سیہ کاریوں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ علم کا نتیجہ ہے۔ان کی سیہ کاریاں انہیں معظم نہیں ہونے دیتیں۔اس لئے وہ دلیل پیدا کر لیتے ہیں کہ ان علوم کا پڑھنا ہی بے فائدہ ہے۔میں نے ایک آدمی کو کہا تم کو اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دیا ہے تم قرآن پڑھو تو اس نے کہا کہ میری شان کے موافق مجھے کوئی حمائل دو۔میرا مولیٰ تو مجھے ہر قسم کے انعامات سے نوازتا ہے۔اس نے مجھے ایک نہایت عمدہ حمائل بھیجی۔میں نے اس کو دی۔یہی واقعہ میں نے اس لئے بتایا کہ لوگ دنیا کے لئے ہزاروں روپیہ خرچ کرنے کو تیار رہتے ہیں مگر قرآن مجید کے لئے باوجود مقدرت کے بھی مضائقہ کرتے ہیں۔اسی طرح کالجوں کے طالب علم بعض وقت لکھ دیتے ہیں کہ میں نے امتحان میں عربی لی ہے کتابیں بھیج دو۔انگریزی کی کتابیں تو بے انت لینے کو تیار ہیں مگر عربی کی کتابیں مانگتے ہیں۔میں نے ایسے طالب علم ایم اے کے دیکھے ہیں۔ان حالات سے تم اندازہ کرسکتے ہو کہ الٰہی علوم کی طرف سے کس قدر غفلت ہے۔اس کے علاوہ بہت سے لوگ بیجا محبت میں گرفتار ہوگئے ہیں۔ان کو اس لئے سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں۔