خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 342 of 660

خطابات نور — Page 342

ہو۔میں اس تماشے کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہوں اور کہتا ہوں۔خوب است! اپنے اپنے محبوبات سے کام لے رہے ہیں اور قوم کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ہر فرد میں سچا جوش ہو کیونکہ جب تک ہر ایک کو اپنے مذاق کے موافق جوش نہ ہو تو کامیابی کیسے ہو۔میں جب طب پڑھنے گیا تو میرے استاد نے پوچھا کہ کہاں تک پڑھو گے۔میں نے کہا کہ مجھے افلاطون بنادو۔میں نہیں جانتا تھا کہ طبیب اور حکیم میں کیا فرق ہے۔اس نے کہا کہ پھر تم کچھ پڑھ لو گے۔اگر تم موجز کا نام لیتے تو میں کبھی نہ پڑھاتا۔پس میں جب مباحثات سنتا ہوں اور ہمت بلند کے تماشے دیکھتا ہوں تو بہت خوش ہوتا ہوں۔ایک انگریزی پر مباحثہ کرتا ہے۔دوسرا عربی کی اہمیت جتاتا ہے۔فٹ بال، کرکٹ وغیرہ میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہر ایک بڑھنا چاہتا ہے۔قرآن مجید میں ہے۔(الواقعۃ :۱۱، ۱۲) بہت سے نادان حیران ہوتے ہیں اور شاید بعض سمجھتے ہوں کہ یہ جھگڑتے ہیں۔فلاں اٹھا اور اس نے دوسرے کی ایسی تردید کی کہ ناک رگڑ دیا۔میں کہتا ہوں وہ حُبّ کے لئے بولتا ہے۔تمہارا جو فرض منصبی ہے تم بھی زور لگائو۔میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے بڑی ہی خوشی ہوتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ عربی کا مؤید کہتا ہے کہ سب کو پیچھے چھوڑ دو اور سب کو اس پر قربان کردو۔میں اس کے جوش کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ ہاں ضرور ایسا ہی کرو۔یہ جوش کام دے گا اور اس کے نتیجے مفید اور بابرکت ہوں گے۔ہمارے شیخ یعقوب علی اٹھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مشینوں کے ذریعہ کام ہونا چاہئے اور مشینیں آنی چاہئے اس کے لئے اتنے ہزار چاہئے۔میں کہتا ہوں، کروڑ مانگتا ہے تو دو یہ بھی ضروری ہے۔دوسرا اٹھتا ہے کہ بدر کے لئے دو۔کم قیمتی میںیہی ایک اخبار ہے۔وقت پر نکالنے کے لئے خرچ کرنا پڑتا ہے اس لئے روپیہ کی ضرورت ہے اس کی کثرت اشاعت کی حاجت ہے۔میں کہتا ہوں ٹھیک ہے کرو۔میگزین والے کہتے ہیں کہ حضرت صاحبؑ نے فرمایا دس ہزار اشاعت ہو میں کہتا ہوں کہ بیس ہزار ہو۔صاحبزادہ صاحب ہیں۔تم نے ان کی نظم اپیل کو سنا ہے۔ان کے دل میں حق کا جوش ہے۔وہ بڑے ہونہار ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں نظر بد سے بچاوے (آمین) میں نے ان کی نظم کو سن کر رو