خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 341 of 660

خطابات نور — Page 341

بھی خوش ہوتا ہے مگر اس سے بھی اگر مسلمان ہو تو اور بھی پسند کرے گا۔لیکن شیعہ ہو تو اور آگے چلتا ہے اور سنی ہو تو اور بھی خوش ہوتا ہے اور احمدی ہو تو پھر اور بھی خوشی ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ حُبّ میں مراتب ہوتے ہیں اور فطرتاً ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کرتے رہتے ہیں اور یہ واقعی بات ہے کہ جوں جوں کسی کو منزہ پاتے ہیں اسی قدر محبت کے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں۔اب یہ تو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ نیکی وغیرہ کا مدار حُبّ پر ہے۔اسی لئے میں نے کہا تھا کہ وہ مضمون اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔میں اس کا بچپن سے مشتاق ہوں اور عجیب در عجیب محبوبوں کے نظارے کئے ہیں اور اس نکتہ پر پہنچا ہوں۔کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں۔یہ بھی کہا تھا کہ کھانے پینے کا اول فکر ہوتا ہے پیدا ہوتے ہی پھر کپڑے کا۔پھرآہستہ آہستہ عمدہ حالت آئی تو پچھلی کو چھوڑتا جاتا ہے۔میں نے ایسی نابکار عورتیں دیکھی ہیں جو بچپن میں لاڈ سے بچوں کے عضو تناسل کو بارہا ہاتھ لگاتی ہیں مگر جب وہ بڑا ہوجاتا ہے تو پھر انہیں کہنا پڑتا ہے کہ تو الگ سویا کر۔پھر باحیا اور بے حیا کا فرق بنتا ہے۔غرض محبوبیت اور محبت کا تماشا ہوتا رہتا ہے۔ہم میں ایک اور استعداد ہوتی ہے جو ترقی کی استعداد ہے۔اس کے بھی عجیب عجیب تماشے ہوتے ہیں۔آم کے درخت کو اتنا پھول آتا ہے کہ اگر سب پھل ہو تو جڑ تک کا ستیاناس ہوجاتا ہے۔پھر جھکڑ چلتے ہیں او راس پھول کا بہت سا حصہ گرادیتے ہیں۔چند دنوں کے بعد کیریاں لگتی ہیں اس کے ساتھ جانور وابستہ ہوتے ہیں۔کچھ لڑکے لے جاتے ہیں۔پھر چٹنی اور امچور کے لئے خرچ ہوتے ہیں۔کچھ اچار کے مربّہ کے کام آتے ہیں۔آخر جو بچتے ہیں وہ پکتے ہیں۔جہاں دو چار پکے اتار لئے اسی طرح پر یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔آم کے پھول چاہتے تھے کہ ہم ہی رہ جاویں مگر ہوا کے جھکڑ نے صفائی کی۔علٰی ہذا القیاس۔یہ بھی ایک تماشا ہے۔اب ہم میں انگریزی پڑھا ہوا دیکھتا ہے کہ متمدن قوم انگریزی بولتی ہے۔غیر قوموں کو انگریزی کے ذریعہ سب کچھ پہنچا سکتے ہیں۔پس ہمارا ہی راج ہو اور جو ہم چاہیں وہی ہو۔بہت خوب! ایک عربی دان آتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ عربی ہی تو جان ہے۔اسلام آسکتا ہی نہیں جب تک عربی سے محبت نہ ہو۔قرآن عربی میں ہے اس کے لئے عربی کا پڑھنا ضروری ہے۔عربی ہی عربی