خطابات نور — Page 343
رو کر سجدہ میں ان کے لئے دعا کی ہے۔ان کے اندر اس قدر جوش موجزن ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حق کے مخالفوں کو پیس دوں۔میں کہتا ہوں ہاں ایسا ہی ہونا چاہئے وہ جو اپیل کرتے ہیں اس کی تعمیل ہونی چاہئے۔پس ان جوشوں کو دیکھ کر گھبرائو نہیں بلکہ خوش ہو کہ یہ ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ہاں! مقابلہ والوں کو چاہئے کہ حد بندی ہو۔دنیا میں عیب گیری بہت ہوتی ہے۔کسی کے لیکچر میں جوش دیکھتے ہیں تو اس پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ اگر نیک نیتی اور حسن ظن سے کام لیا جاوے تو بات آسان ہے کہ یہ حُبّ کا کرشمہ ہے اور حدود بندی جناب الٰہی کے اختیار میں ہے۔مگر ہرشخص کا فرض ہے کہ اپنی راہ میں پورا زور لگائے۔ایک اٹھتا ہے وہ کہتا ہے کہ ضعفاء کے لئے چندہ دو۔ہم اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔دوسرا کہتا ہے کہ مت دو۔صدرانجمن ہی میں دو۔وہ کہتا ہے کہ میں تمہارے روکنے سے نہیں رکتا۔میں اپنی ذات کے لئے نہیں مانگتا۔یہ عجیب بات ہے۔تم اس نکتہ پر پہنچو نہ پہنچو مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب حُبّ کے کام ہیں۔صدرانجمن کا حکم بھی ایک حُبّ ہے۔وصایا پر کاربند ہونا بھی حُبّ ہے۔یہ سب حُبّ ہے مگر میرا منشاء پوچھو تو عربی تو میری محبوب زبان ہے۔اس کی تائید تو میں اپنا فرض سمجھتا ہوں مگر میں تو اس کے ساتھ یہ بھی چاہتا ہوں کہ وید کی زبان، فرانسیسی اور جرمن بھی پڑھیں اور میرا سارا کتب خانہ پڑھیں۔غرض انگریزی کے مؤید خوب زور لگائیں۔عربی کے مؤید خوب تائید کریں اور میرے جیسے انڈیا کی اور نو دس زبانیں بڑھا کر خوب کوشش کریں۔ابو سعید جیسے بھی ہوں جو مختلف زبانیں سیکھ لیں۔غرض سب کی ضرورت ہے۔ہمیں ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔مگر نیک نیت، نیک کردار، خداترس اور سچے فرمانبرداروں کی۔دیکھو، خالد بن ولید کی ایک بھی حدیث نہیں۔ضرار بن آزر کا نام بھی حدیث کی کتابوں میں نہیں وہاں جائو تو قال ابوہریرہ ملے گا۔مگر تاریخ میں جائو تو پھر ابو عبیدہ، خالد اور ضرار