خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 139 of 660

خطابات نور — Page 139

ہے۔نوکری کرتا اور عجز و نیاز سے افسروں کی فرمانبرداری کرتا صرف اس لئے کہ سکھ ملے۔جب کہ یہ حال ہے تو انسان مرکب ہے دو چیزوں سے۔جسم اور روح سے۔جسمانی سکھ چاہتا ہے تو یہ کبھی سمجھ میں نہیں آسکتا کہ روح آرام کی خواہشمند نہ ہو۔ہے اور ضرور ہے اور جیسے تبادلہ اشیاء کا سلسلہ ہم دیکھتے ہیں اور بیوپار اور لین دین دنیا کے تمدن کے لئے ایک ضروری شے ہے اسی اصول کو مدنظر رکھ کر کیونکہ یہ تو ہر ایک انسان کے مشاہدہ ، نہ صرف مشاہدہ بلکہ تجربہ میں آئی ہوئی بات ہے۔میں ایک اور بات تمہیں سناتا ہوں۔( التوبۃ :۱۱۱) بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (کس چیز کے بدلہ میں )ان کے جانوں اور مالوں کے معاوضہ میں ان کو جنت دی ہے۔یہ خرید الٰہی ہے۔اللہ تعالیٰ کی تجارت اللہ تعالیٰ کا بیوپار مومنوں کے ساتھ ہے۔یہ اس کا کس قدر فضل اور کرم ہے کہ جس چیز کو وہ بدوں کسی قسم کا تبادلہ یا معاوضہ دینے کے بھی مالک اور مختار تھا کہ جس طرح چاہے اس سے کام لے پھر بھی اس چیز کا معاوضہ دیا ہے۔اللہ اللہ ایسا کریم و رحیم محسن آقا !!! پس یاد رکھو کہ مومن بننے کے ساتھ ہی مومن کہلاتے ہی اپنی جان و مال جو عارضی طور پر اپنی کہلاتی ہے بیچ دی جاتی ہے۔اس لئے کہ انسان اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب سکھ کو چاہتا ہے اور وہ جنت میں حاصل ہوتے ہیں جس کا ظل اور پرتو اسی دنیا سے شروع ہوتا ہے۔انفسھم کے کہنے سے نہ اپنے دل پر نہ آنکھ پر نہ زبان پر غرض اپنے جسم کے کسی حصہ اور اعضاء پر اپنا اب کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اور نہ رہنا چاہیے کیونکہ جب ہم روز مرہ اپنے تجربہ میں اس امر کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی چیز کسی سے خریدتے ہیں تو خریدنے کے ساتھ ہی بیچنے والے کا اپنا کوئی اختیار اور تصرف اس پر نہیں رہتا۔پس جب ہم نے ایمان کا دعویٰ کیا اور مومن بنے تو اس کے ساتھ ہی اپنا جان و مال خدا کے ہاتھ بیچ ڈالا تو اب اس پر ہمارا اپنا تصرف کیسا؟ اسلام کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے اور اپنی گردن فرمانبرداری کے لئے رکھ دے۔اپنی خواہش اپنا ارادہ کچھ باقی نہ رہے اور یہی مومن ہونے کے معنی ہیں۔