خطابات نور — Page 138
خرید الٰہی دنیا میں بیوپار لین دین ایک ایسی چیز بنائی گئی ہے جس کے مبادلہ سے بڑے بڑے فائدے پہنچتے ہیں۔دنیا کا تمدن اسی پر موقوف ہے۔پولیٹیکل اکانومی کے پڑھنے والے تقسیم محنت کے مسئلہ سے خوب واقف ہیں اور ایجادات اور اختراعات کی تاریخ پر غور کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ تبادلہ اشیاء کی صورت کس طرح پر تھی اور کیوں کر انسان اپنی ضرورت کی اشیاء باہم مبادلہ سے حاصل کرتا تھا اور پھر سکہ کا رواج کیونکر ہوا۔مجھے نہ پولیٹیکل اکانومی کے مسئلہ تقسیم محنت کو بیان کرنا ہے اور نہ ایجادات کے ذیل میں ایجاد سکہ کی تاریخ کو بتانا مقصود ہے بلکہ مجھے اس بیان سے سننے والوں کو ایک اور طرف لے جانا مطلوب ہے۔ہاں تو یہ ظاہر بات ہے کہ دنیا کا تمدن اسی بیوپار اور خرید و فروخت پر موقوف ہے۔زمیندار اناج بوتا ہے اور اپنی ضروریات کو اناج بیچ کر پورا کرتا ہے۔اسی طرح ہر حرفہ اور پیشہ کا انسان جو کچھ اپنے طریق پر کماتا ہے اس سے اپنے آرام کی اور چیزیں خرید کر لیتا ہے اور یہ ایک ایسا لمبا سلسلہ جاری ہے لیکن انسان اس بیوپار میں کبھی کبھی غلطیاں بھی کرلیتا ہے اور دھوکا کھا جاتا ہے۔تاجر بنتا ہے مگر بعض اوقات اسامیاں تباہ ہوجاتی ہیں اور ایسے ایسے اسباب پیش آجاتے ہیں جن سے دیوالیہ ہوجاتا ہے اور بہت سے طریق اختیار کرتا ہے کیوں؟ منشاء صرف یہ ہے کہ آرام اور آسائش سے زندگی بسر کرے۔انسان فطرۃً خوشحالی چاہتا ہے۔بچپن سے جوانی ، جوانی سے ادھیڑ اور پھر بڑھاپے تک ہر حالت میں اس کے مد نظر آرام ہے۔جب ہم انسان کی اس فطرت اور اس بناوٹ پر غور کرتے ہیں تو ان احمقوں پر بہت ہی افسوس اور معاً رحم بھی آتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ انسان کو ابدی راحت ، دائمی سکھ یا مکتی نہیں مل سکتی۔میں تو حیران رہ رہ جاتا ہوں جب ایک طرف انسان کی اس فطرتی خواہش سکھ پر غور کرتا ہوں اور دوسری طرف ان وید کے پرستاروں کے اس اصول پر نظر کرتا ہوں۔غرض انسان ہزاروں ہزار فکر کرتا اور لاکھوں لاکھ وسائل تلاش کرتا مگر منشاء صرف آرام ہوتا