خطابات مریم (جلد دوم) — Page 73
خطابات مریم 73 تحریرات کے لئے سب خاموشی سے دھوپ میں زمین پر بیٹھے رہتے تھے۔دھوپ ہو یا بارش کوئی چیز ان کو وہاں سے سے اٹھنے نہ دیتی تھی باوجود زبان نہ جاننے کے آپس میں مرد مردوں سے بھائیوں کی طرح اور عورتیں عورتوں سے بہنوں کی طرح ملتی تھیں۔ایک دوسرے کے پتے نوٹ کئے جاتے تھے۔آئندہ ملنے کے وعدے ہوتے تحائف کا تبادلہ ہوتا۔دعوتیں ہوتیں بزرگوں کے پاس ملنے جاتے دعا کے لئے کہتے اپنے امام سے ملنے کے لئے ہر ایک کی روح بے چین رہتی جب تک کہ ملاقات نہ ہو جاتی۔ہر ملک کا الگ تمدن ہے۔رہنے سہنے کے طریق مختلف ہیں۔کھانا پینا مختلف ہے۔مگر یہاں آ کر جو ملتا خوشی سے کھاتے اس جذبہ کے ساتھ کہ آج وہ بانی سلسلہ احمدیہ کے لنگر خانہ کا کھانا کھا رہے ہیں۔کتنے خوش قسمت ہیں نہ کوئی شکوہ نہ شکایت ہر سینہ میں ایک دل دھڑک رہا ہوتا تھا ہر انسان کی ایک ہی خواہش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ دعا ئیں ان دنوں میں کی جائیں۔زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جائے۔اس مقصد کیلئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جلسہ سالانہ کی ابتداء فرمائی تھی اور جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی غرض یہ بیان فرمائی تھی۔کہ اس جلسہ سے مدعا اور مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں دوسروں کیلئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راست بازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کیلئے سرگرمی اختیار کریں۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 439) اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سو سالوں میں جلسہ سالانہ دنیا کے ہر بڑے ملک میں ہونے لگا ہے جو مرکزی جلسہ سالانہ کا ظل ہوتا ہے۔امریکہ، کینیڈا، نائیجیریا، غانا، سیرالیون، گیمبیا، جرمنی ، یورپ کے دوسرے ممالک، ماریشس، انڈو نیشیا وغیرہ میں ہر سال جلسہ سالانہ پوری شان سے منعقد کیا جاتا ہے اور انگلستان میں تو جب سے ہمارے پیارے امام رہائش پذیر ہیں وہاں کا جلسہ سب جلسوں کی جان ہوتا ہے۔پس جلسہ سالا نہ خواہ کسی ملک میں ہو رہا ہواس میں