خطابات مریم (جلد دوم) — Page 763
خطابات مریم نہیں اُتر تا۔763 پیغامات 2 تیسری صدی ختم ہونے سے قبل دنیا اس عقیدہ سے بیزار ہو جائے گی۔-3 احمد یہ جماعت تمام ملکوں میں پھیل جائے گی اور اللہ تعالیٰ اس کو غلبہ عطا کرے گا۔4- دنیا کا ایک ہی مذہب ہو گا جو عزت سے یا د کیا جائے گا یعنی اسلام۔درمیانی عرصہ میں جماعت پر بڑے بڑے ابتلاء آ ئیں گے جس کے نتیجہ میں ظاہر ہو جائے گا کہ کون سچا ہے کون جھوٹا۔جو صبر کریں گے ان پر اللہ تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوں گی۔میری بہنو غور کریں ان پیشگوئیوں کے مطابق جو آج سے قریباً یکصد سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو بتائی تھیں۔بہت سی پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں۔جن میں سے ایک کی صداقت یہ کہ آپ کا اپنا ملک گواہ ہے یعنی ڈوئی کی پیشگوئی۔کیا اس کے مطابق جماعت پر ابتلاء نہیں آئے کیونکہ امتحان لینا بھی تو ضروری ہوتا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم صبر کریں۔دعائیں کریں اور ان امتحانوں میں پوری اُتریں۔امتحان میں پوری اُترنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے نفسوں کا فوری جائزہ لیں اور لجنہ بھی اس چیز کو دیکھتی رہے کہ کیا ہمارا عمل ہمارے دعوے کے مطابق ہے کیا ہماری زندگیاں ہمارے اخلاق ، ہمارا دوسروں سے سلوک قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ہے۔حضرت مسیح موعود قرآن کی تعلیم کو پھیلانے اور اس کی تعلیم پر عمل کروانے کے لئے آئے تھے۔اس لئے آئے تھے کہ بندوں کو اپنے پیدا کرنے والے سے تعلق ہو اور اس تعلیم کی طرف ہم دنیا کو دعوت دے رہے ہیں۔اگر ہمارا اپنا نمونہ قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق نہ ہوا تو ہم دوسروں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔اگر ہم میں وہ اعلیٰ صفات نہیں پائی جاتیں جن کی قرآن مجید تعلیم دیتا ہے مثلاً سچائی ، دیانت داری، صفائی ، ایفائے عہد متحمل ، خوش خلقی ، عدل ، رحم ، صبر ، ہمدردی ، تعاون باہمی اتحاد، حسن سلوک اور مصیبت زدوں کی مدد کرنا تو کیا اس کے خلاف ہمیں کرتے دیکھ کر کوئی ہماری بات سننا پسند کرے گا۔