خطابات مریم (جلد دوم) — Page 466
خطابات مریم 466 خطابات خواتین کی بھی ہوتی ہیں۔عہدیداران آپ کے تعاون کے بغیر اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتیں۔اگر خواتین یہ سوچیں کہ کام کرنا صرف عہدہ داروں کی ہی ذمہ داری ہے تو پھر وہ آپ کے تعاون کے بغیر کوشش کے باوجود اپنے کام کو آگے نہیں بڑھا سکیں گی۔آپ نے فرمایا کہ اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کا شمار پھر صف اول کی مجالس میں ہوا ور حضور ایدہ اللہ کی اطاعت کرنے والی ہوں تو پھر ہر دم اپنے عہد کو مد نظر رکھیں۔وقت کو قربان کریں اجلاسوں میں با قاعدہ حاضر ہوں جو خواتین یہاں نہیں پہنچ سکیں ان تک بھی میری آواز پہنچا ئیں اور خدا کرے کہ میری آواز صدا بصحرا ثابت نہ ہو۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ تو صرف اس لئے دنیا میں تشریف لائے تھے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو تازہ کریں۔آپ نے ہر مذہب کا مقابلہ کیا۔حضرت سیدہ موصوفہ نے فرمایا کہ سیالکوٹ تو بہت برکت والا شہر ہے کیونکہ حضرت بانی سلسلہ نے اسے اپنا دوسرا وطن قرار دیا ہے۔آپ اس وقت ہی اس برکت سے حصہ لے سکتی ہیں جب آپ کا عمل دوسروں سے ممتاز ہوگا اور آپ کا قدم دوسری مجالس سے بہت آگے ہوگا۔پھر آپ نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ میں سب سے بڑا انعام قدرت ثانیہ کا انعام ہے اور یہ مشروط انعام ہے تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جن اقوام نے اس نعمت کی شرائط کو نظر انداز کیا اُن سے یہ انعام واپس لے لیا گیا۔پس اس انعام کی قدر کریں اپنے دل میں لجنہ کی تنظیم کے لئے اور اپنی بہنوں کے لئے ایک درد پیدا کریں۔اس درد کے ساتھ آپ کے اندر عمل کی قوت پیدا ہوگی آپ نے دعا کی طرف بہت توجہ دلائی اور فرمایا کہ حضور ایدہ اللہ کی جلد کامیاب وکامران واپسی کیلئے اور ہر تنظیم کیلئے خواہ وہ لجنہ کی ہو، انصار کی ہو یا خدام الاحمدیہ کی ، دعا پر بہت زور دیں دعا کریں کہ ہمیں وہ قومی حاصل ہوں جن سے ہم عمل کی طرف راغب ہو سکیں۔ہمارے قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ اُسوہ رسول کو اپنا ئیں جن کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سنہری الفاظ موجود ہیں کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن (مسند احمد بن حنبل جلد6 صفحه 90) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو چلتے پھرتے قرآن تھے۔سو آپ قرآن کریم کی تعلیم حاصل کریں