خطابات مریم (جلد دوم) — Page 366
خطابات مریم 366 خطابات ہمارے جلسوں کی غرض ، ہماری تعلیم کی غرض ، ہماری تنظیموں کی غرض اور ہمارے کاموں کی غرض صرف یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم پر سب لوگ عمل کر نے لگ جائیں اور دنیا میں مکمل امن قائم ہو جائے۔لیکن منہ سے تو ہم یہ کہہ دیں گے کہ ہم قال اللہ اور قال الرسول کو دستور العمل بنائیں گے مگر یہ دستور العمل ہم تبھی اختیار کر سکتے ہیں کہ قرآن کریم پڑھا ہو قرآن کریم سمجھا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کن باتوں سے منع فرمایا ہے کون سی مثالیں دے کر ہمیں بتایا ہے کہ پہلی قومیں ان کے کرنے سے تباہ ہو گئی تھیں اور کون سے ذرائع ہیں جن پر عمل کر کے اسلام ترقی کر سکتا ہے۔میری بہنو! اپنی زندگیوں کا سب سے بڑا مقصد یہ قرار دیں کہ ہم نے قرآن کو پڑھنا ہے ان کے معانی پر غور کرنا ہے قرآن کریم کو اپنی زندگیوں میں داخل کرنا ہے قرآن کی حکومت جبھی دنیا میں قائم ہو سکتی ہے کہ پہلے آپ کے دلوں میں قرآن کی حکومت قائم ہو آپ کے گھروں میں قرآن کی حکومت قائم ہو آپ کے بچے قرآن پڑھنے والے ہوں۔قرآن سمجھنے والے ہوں۔تبھی آپ قرآن پر عمل کر سکیں گی ورنہ بغیر پڑھے آپ کا یہ عہد دہرانا کہ ہم قال اللہ اور قال الرسول کو دستور العمل بنائیں گے مگر آپ کو تو پتہ ہی نہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے اور اللہ کے رسول نے کیا فرمایا ہے اس شرط میں اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آنے کا عہد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر احمدی سے لیا ہے۔رسمیں کیوں کی جاتی ہیں خدا کو چھوڑ کر بعض انسانوں کو خوش کرنے کیلئے اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں کوئی بڑی اور اہم چیز ثابت کرنے کیلئے حالانکہ وہی روپیہ جو رسموں پر خرچ ہو رہا ہے اگر خدا کی مخلوق کی بہبودی پر خرچ ہوتا تو انسانوں کو فائدہ بھی پہنچتا اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوتی۔شرائط بیعت میں سے ساتویں شرط یہ ہے کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔تکبر بھی ایک ایسی بُرائی ہے جو دوسرے انسانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور خوش خلقی سے دوسرے انسان فائدہ اُٹھاتے ہیں۔آپ سب ہمیشہ ہی ہر ایک سے مسکراتے چہرے کے ساتھ اور خوش اخلاقی سے ملا کریں۔آپ کی تبلیغ تب ہی اثر کرے گی کہ جب دوسرے کو یہ احساس