خطابات مریم (جلد دوم) — Page 204
خطابات مریم 204 خطابات ایک نمائندہ کا طریق لجنہ اماء اللہ نے جاری کیا ہے۔ہر نمائندہ پر جو منتخب کیا جاتا ہے بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مرکز میں آکر خود جو سکھایا جائے سیکھے اور واپس آ کر اپنی لجنہ کی باقی ممبرات کو وہ سب کچھ سکھائیں اگر یہ فرض آپ ادا نہیں کرتیں یا کر نہیں سکتیں تو آپ کے آنے کا قطعی کوئی فائدہ نہیں۔یہ کام صرف لجنہ کی صدر یا سیکرٹری کا نہیں بلکہ ہر نمائندہ جو آتی ہے اس کا فرض ہے اس زمانہ میں تو نئی نئی ایجادوں سے آسانیاں بھی بہت پیدا ہوگئی ہیں۔اگر ہر ضلع کی لجنہ اپنے فنڈ میں سے ایک ایک ٹیپ ریکارڈ خرید لیں اور یہاں کی کارروائی ریکارڈ کر کے لے جائیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب، درس القرآن، درس حدیث ، ذکر حبیب ، لجنہ کی عہدیداران کی ہدایات وغیرہ اور وہاں جا کر اپنے اجلاسوں میں سنا ئیں تو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔جب اچھی طرح سنا لیں، سمجھا لیں تو پھر جائزہ لیتی رہیں سارا سال کہ ان پر عمل بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔احمدی مستورات نظام جماعت کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کی کوئی بھی کمزوری جماعت کی ترقی میں روک بن سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اسلام کا غلبہ ہوگا اور یہ غلبہ جماعت احمد یہ کے ساتھ وابستہ ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سورۃ صف میں فرماتا ہے۔اور هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف: ١٠) مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ غلبہ اسلام آخری زمانہ میں ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے بشارتیں پا کر فرمایا :۔ھے اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن اور آپ نے دنیا کو بشارت دی کہ :۔سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا