خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 181 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 181

خطابات مریم 181 خطابات رب کے حکم سے ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے آئے یعنی غالب اور تعریفوں والے خدا کے راستہ کی طرف۔دوسری جگہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قد انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذكرال رَسُولًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْتِ اللَّهِ مُبَيِّنَةٍ ليُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت من الظلمتِ إِلى التَّوْدِ (الطلاق: 12،11) ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شرف کا سامان یعنی رسول اُتارا ہے جو تم کو اللہ کی ایسی آیات سناتا ہے جو ( ہر نیکی اور بدی کو ) کھول دیتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مومن لوگ جو اپنے ایمان کے مطابق عمل کرتے ہیں وہ اندھیروں سے نکل کر نور میں آ جاتے ہیں۔قرآن مجید کی ان دو آیات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قول کے مطابق آنحضرت مع کی اطاعت اور آپ کی تعلیم یعنی قرآن مجید پر عمل کرنے کے نتیجہ میں مومن اندھیروں سے نکل کر روشنی اور نور میں آجائیں گے اور یہی چیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے کہ آپ کی پیروی کرنے والے کو ( کیونکہ آپ کی پیروی کرنا آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنا ہے ) ان گڑھوں اور خندوقوں سے بچایا جائے گا جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کیلئے تیار کئے ہیں۔سب سے بڑی ظلمت اللہ تعالیٰ سے دُوری ہے جو شخص اپنے رب کو نہیں پہچانتا اپنے رب کو اپنے قریب محسوس نہیں کرتا اس کے احکام پر چلنے کی بجائے شیطان کے طریق اختیار کرتا ہے وہ خواہ دیکھنے میں کتنا ترقی یافتہ نظر آئے حقیقت میں اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور اس وقت تک نہیں نکل سکتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ اختیار نہ کرے اور قرآن پر عمل نہ کرے۔پہلی آیت کی تشریح میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں :۔اس آیت میں بتایا ہے کہ قرآن کریم ایک روشنی ہے جس کے ذریعہ محمد رسول اللہ لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکال لے جائیں گے پھر روشنی کی تشريح إلى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ سے کی یعنی عزیز و حمید خدا کا راستہ ہی اصل روشنی ہے۔ہم دیکھتے ہیں روشنی کو تو ہر ایک پسند کرتا ہے لیکن روشنی کی تشریح میں لوگوں کو اختلاف ہوتا ہے۔آج کل لوگ کہتے ہیں یہ نئی روشنی کے آدمی ہیں اور مراد