خطابات مریم (جلد دوم) — Page 861
خطابات مریم 861 پیغامات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پیاری بہنو ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آپ کے سالانہ کنونشن میں اس مختصر پیغام کے ذریعہ شرکت کر رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عُهَدَ ج عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيْهِ أَجْرًا عَظِيمًا (الفتح :11) ترجمہ : وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ صرف اللہ کی بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے پس جو کوئی اس عہد کو توڑے گا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی حالت پر پڑ گیا اور جو کوئی اس عہد کو جو اس نے خدا سے کیا تھا پورا کرے گا اللہ اس کو بہت بڑا اجر دے گا۔ہراحمدی جماعت احمدیہ میں داخل ہوتے ہوئے ایک عہد کرتا ہے۔جس کی شرائط خود بانی سلسلہ احمدیہ نے مقرر فرمائی ہیں۔حضرت مسیح موعود نے کوئی نیا دعوی نہیں کیا آپ کی بعثت کی غرض لوگوں کا اپنے رب سے تعلق قائم کرنا اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کروانا تھا۔گو یا حضرت مسیح موعود کی اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے اور شرائط بیعت کا پورا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اپنے عہد کو نبھانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنا خدا تعالیٰ کی بیعت کرنا ہے۔پس یا درکھیں جو کوئی اس عہد بیعت کو توڑتا اور خلاف ورزی کرتا ہے اس کو توڑنے کا وبال اس کی جان پر پڑے گا اور جو کوئی اس عہد کو جو اس نے خدا تعالیٰ سے کیا تھا پورا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو بہت بڑا اجر دے گا۔ہم منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم احمدیت کی خاطر اپنی جان، مال ، وقت اور اولا د کو قربان