خطابات مریم (جلد دوم) — Page 375
خطابات مریم 375 خطابات کیا۔ہماری جماعت کو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ وسع مکانک کا حکم ہے اس لئے مکانوں میں وسعت دو تا کہ مہمان ٹھہریں۔ہر محبت اپنی جگہ ہے خدا سے خدا کی شان کے مطابق محبت کرو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رسول کی شان کے مطابق ، دین سے اس کی اہمیت کے مطابق ، والدین سے ان کے درجہ کے مطابق ، اولاد سے اس کے تعلق کے مطابق غرضیکہ ہر ایک کے درجہ کو مدنظر رکھا جائے اور کہیں بھی ان مذکورہ بالا کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اس کی راہ میں کوشش اور قربانی کرنے سے نہ ٹکرائے۔اگر کہیں ان کی محبتیں خدا تعالیٰ کی محبت سے ٹکراتی ہیں اور اس کی راہ میں قربانی دینے میں حائل ہوتی ہیں تو پھر ان محبتوں کو قربان کرنا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ترجیح دینی ہوگی۔آپ سب اس معیار کو اپنے سامنے رکھیں آپ میں سے اکثریت پاکستان سے آ کر یہاں آباد ہوئی ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے رزق کے دروازے کھولے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کے مال میں برکت ڈالے مگر آپ اس بات کا جائزہ لیتی رہیں کہ اتنی دور آ کر آپ اپنے فرائض سے غافل تو نہیں ہو رہی ہیں۔ایک احمدی مسلمان ہونے کی حیثیت سے سب سے بڑا فرض تو آپ کا یہ ہے کہ جہاں آپ عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ سے کبھی غافل نہ ہوں یعنی آپ کا دنیا کمانا، اس ملک میں نوکری کرنا آپ کو ان فرائض سے غافل نہ کر دے جو بحیثیت مسلمان آپ پر فرض ہیں۔نماز ، ذکر الہی وغیرہ اس میں غفلت نہ ہو وہاں آپ کا ظاہر بھی مسلمان ہی نظر آئے۔آپ یہاں کے رہنے والوں کے طور طریق سیکھ کر ایسی شکل نہ اختیار کر لیں جو ایک مسلمان عورت کا طریق نہیں۔پھر اس ملک میں رہتے ہوئے آپ پر یہ بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ اس بات کی نگرانی رکھیں کہ آپ اور آپ کے خاوند صحیح طور پر جماعت کی خدمت کر رہے ہیں یا نہیں۔آپ کا مالی قربانی کا معیار آپ کے وقت کی قربانی کا معیار وہی ہے جو ہونا چاہئے۔آپ کی یہ بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اس ملک میں رہتے ہوئے اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نَارًا - ( التحريم : 7) اے مومنو! اپنے آپ کو اور اپنی بیویوں اور بچوں کو ہلاکت سے بچاؤ۔