خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 307 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 307

خطابات مریم 307 خطابات تعالیٰ نے اس زمانہ کی اصلاح کی خاطر حضرت اقدس کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ ہر قسم کی برکت قرآن کریم میں ہے۔الخَيْرُ كُلَّهُ فِي القُرآن۔پس مجسم خیر بننے اور خیر کی طرف دعوت دینے کیلئے ضروری ہے کہ قرآن کریم پڑھو اور اس پر عمل کرو بغیر قرآن پڑھے اس کا ترجمہ سکھے نہ خود آپ خیر حاصل کر سکتی ہیں نہ دوسروں کو خیر پہنچا سکتی ہیں۔حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی جماعت کو قرآن سکھانے اور پڑھانے کی بہت کوشش کی۔آپ نے اپنی سالانہ اجتماع 1966 ء کی تقریر میں فرمایا :۔اپنی نسلوں میں قرآن کریم کا عشق اس طرح بھر دیں کہ دنیا کی کوئی لذت اور کوئی سرور انہیں اپنی طرف متوجہ نہ کرے۔وہ ساری توجہ کے ساتھ قرآن کریم کے عاشق ہو جائیں اور وہ ہر خیر اس سے حاصل کرنے والے ہوں اور وہ دنیا کے لئے ایک نمونہ بنیں تا قیامت تک آپ کے نام زندہ رہیں اور آنے والی نسلیں حیران ہو کر آپ کی تاریخ کو پڑھیں اور کہیں کہ کیسی عورتیں تھیں اس زمانہ کی جنہوں نے دنیا کے تمام لالچوں کے باوجود دنیا کے تمام بداثرات کے باوجود دنیا کوٹھکرا دیا اور دنیا کی طرف اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے نور کو اپنے گرد اس طرح لپیٹا کہ وہ جہاں بھی رہیں اور جہاں بھی گئیں وہ اور ان کا ماحول اس نور سے منور رہا اور جگمگاتا رہا۔(المصابیح صفحہ 31) اس آیت میں دوسری چیز جس کی طرف توجہ دلائی گئی وہ ہے یا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وہ معروف کا حکم دیں۔امام راغب نے معروف کے معنی کئے ہیں ہرایسا کام وفعل جس کی خوبی عقل و شرح سے معلوم ہو جائے اور تیسری بات جو بیان کی گئی ہے وہ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ہے منکر کے معنی ہیں ہر فعل جو عقل و شریعت کے نزدیک ناپسندیدہ ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وه يَدْعُونَ إلى الخیر کے علاوہ ایسے کام کرنے کا حکم دیتے ہیں جو عقل اور شرح کی رو سے فائدہ مند ہوں اور ان کاموں سے روکتے ہیں جو شریعت و عقل کی رو سے ناپسندیدہ ہوں۔پس ہر احمدی خاتون اپنے گھر کی راعی اور سر براہ ہوتی ہے وہ ذمہ دار ہے کہ جن پر اس کی اخلاقی