خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 226 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 226

خطابات مریم 226 خطابات جانوں کو قرآن کی تعلیم میں لگاؤ۔اسلام کی اشاعت میں لگاؤ ایسے کاموں میں لگاؤ جس سے دین کو تقویت ملے۔دین کی خاطر زندگیاں وقف کرو دین کے کاموں کے لئے اپنے اوقات میں سے کچھ وقت صرف کرو اور جہاں دین کی عزت اور سر بلندی کا سوال آئے وہاں اپنے جذبات کو قربان کرو۔عموماً مستورات کے متعلق اس قسم کی شکایتیں ملتی ہیں کہ فلاں کے گھر اجلاس ہوا تو شامل نہیں ہونا۔فلاں صدر یا سیکرٹری ہوئی تو اس کے ساتھ مل کر کام نہیں کرنا کیونکہ اس سے ہمارا جھگڑا ہے ہماری سب محبتیں بھی خدا تعالیٰ کی خاطر ہونی چاہئیں اور ہماری نفرت بھی خدا تعالیٰ کی خاطر۔اللہ تعالیٰ تو کسی سے بھی نفرت اور دشمنی کی اجازت نہیں دیتا خواہ بڑے سے بڑا دشمن ہو۔صرف جو خدا کا دشمن ہے اس سے دوستی رکھنے کی اجازت نہیں۔قومی ترقی کا بنیادی گر اتحاد اور باہمی تعاون ہے۔ہماری سب بہنوں میں بھی یہی روح ہونی چاہئے۔ہر کام مل کر کریں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور سلسلہ کے کام کرتے ہوئے اگر کسی قسم کی آپس میں رنجش ہو تو اسے بھول جائیں۔ان سب باتوں کے ساتھ یہ مرکزی نکتہ یا درکھیں کہ غلبہ اسلام اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وابستہ ہے اور غلبہ اسلام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کا انعام عطا فرمایا ہے سلسلہ خلافت کے ذریعہ گلشن احمد کی آبیاری مقدر ہے۔اس نعمت کی قدر کرنا اور اپنے آپ کو اس کا مستحق قرار دینا احمدی جماعت کا فرض ہے۔ہر احمدی خاتون کا فرض ہے کہ اس کا خلافت سے تعلق مضبوط ہو۔خلیفہ وقت کے احکام پر بشاشت سے چلنے والی ہو۔آپ کے فیصلوں کو بشاشت قلب سے قبول کرنے والی ہو۔اپنی اولاد کے دل میں خلافت سے عقیدت اور محبت پیدا کرے۔نظام سلسلہ پر اعتراض کرنے والوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے۔ہر زمانہ میں منافقین پیدا ہوتے ہیں۔ہمیں ہر وقت جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ کسی قسم کا اثر ان کی باتوں کا ہم پر اور ہماری اولاد پر نہ ہو۔اپنی اولا دکوان کے اثر سے محفوظ رکھیں۔خلیفہ خدا بناتا ہے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوتا ہے۔اس کی قیادت میں جماعت کی ترقی مقدر ہے اس لئے خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے اور خلیفہ وقت کے مطیع اور فرمانبردار رہنے سے ہی جماعت کی ترقی ہے۔یہ سنہری گر جماعت کی مستورات کے ذہنوں میں ہر وقت